رسائی کے لنکس

logo-print

انتہاپسندی میں ملوث مدارس کے خلاف اقدامات کریں گے: طاہر اشرفی


پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ مدرسوں کے منتظمین، طلبہ کو خوف ذردہ نہیں ہونا چاہیئے۔

پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی نے وزیراعظم نواز شریف کو یقین دہانی کروائی ہے کہ شدت پسندی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت میں ملوث مدارس کے خلاف اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

یہ بات انھوں نے وزیراعظم سے جمعرات کو ملاقات کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہی۔

انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کی روک تھام کے تناظر میں حکومت کی طرف سے دینی مدارس کے خلاف ممکنہ کارروائی کے بارے میں طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ ’’وزیراعظم نے کہا ہے کہ مدرسوں کے منتظمین، طلبہ کو خوف ذردہ نہیں ہونا چاہیئے۔ اگر کہیں پر (انتہا پسندی یا فرقہ واریت کا) ایسا کوئی مسئلہ ہے تو ہم نے بھی کہا ہے کہ حکومت اس طرف نشاندہی کرے اور ہم بھی کوشش کریں گے کہ معاملات کو اصلاح کی طرف لے کر جائیں۔‘‘

طاہر اشرفی اسلامی نظریاتی کونسل کے بھی رکن ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہے تو مدارس کو موصول ہونے والے فنڈز سے متعلق جانچ پڑتال کے لیے ان کی ’آڈٹ رپورٹ‘ کا جائزہ لے سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملاقات میں انھوں نے غیر جنگی قیدیوں کی رہائی سے متعلق طالبان شدت پسندوں کے مطالبے کو بھی دھرایا۔ ان کے بقول وزیراعظم نے کہا کہ اگر ایسے کوئی قیدی موجود ہیں تو انہیں رہا کیا جائے گا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان پہلے ہی شدت پسندوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ بچے یا عورتیں فوج کی تحویل میں نہیں۔

ادھر حکومت نے طالبان عسکریت پسندوں سے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ایک نئی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں اکثریت سرکاری افسران کی ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کی صوبہ خیبرپختون خواہ حکومت کے نمائندے سابق سفارت کار رستم شاہ مہمند بھی شامل ہیں۔

حکومت میں شامل عہدیداروں کے مطابق یہ کمیٹی براہ راست شدت پسندوں سے ملاقات کرکے قیام امن سے متعلق امور پر بات چیت کرے گی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمٰن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ نئی سرکاری کمیٹی کے قیام سے عسکریت پسندی کے خاتمے اور قیام امن سے متعلق معاملات تیزی سے آگے بڑھے گے۔

’’پہلے ایک کے علاوہ دیگر اراکین حکومت کا حصہ نہیں تھے مگر اب کمیٹی کی ہیت تبدیل کر دی گئی ہے۔ ہر مرحلے میں فیصلے لینے ہیں۔ فائربندی کا فیصلہ بہت بڑا تھا۔‘‘

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کی طرف سے فائر بندی کی خلاف ورزی کی جارہی ہے اور حالیہ دنوں میں مختلف علاقوں میں ان کے ساتھیوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں۔

تاہم جمعرات کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے طالبان کی نامزد کردہ مذاکراتی ٹیم سے ملاقات میں نواز شریف انتظامیہ کی بات چیت کے عمل سے متعلق سنجیدگی کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

حکومت میں شامل عہدیدار کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات کی ناکامی پر فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے اور ملک کی کمزور معیشت کے باوجود انتہا پسندی و دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام مالی وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
XS
SM
MD
LG