رسائی کے لنکس

سینیٹ کا نیا چیئرمین اور ڈپٹی کون ہو گا، سیاسی جوڑ توڑ جاری


سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی کے انتخاب میں مسلم لیگ نون، پپیلز پارٹی اور تحریک انصاف کا کردار اہمیت رکھتا ہے۔

سینیٹ میں اس وقت کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس اپنا امیدوار منتخب کرانے کے لیے سادہ اکثریت نہیں ہے۔ اگرچہ مسلم لیگ نون کے نمبر زیادہ ہیں لیکن سیاسی جوڑتوڑ کے نتیجے میں چیئرمین شپ کا ہما کسی کے بھی سر پر بیٹھ سکتا ہے۔

علی رانا

سینیٹ کے نئے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے معاملہ کے حوالے سے سیاسی کھینچا تانی کا سلسلہ جاری ہے اور مسلم لیگ(ن) کی طرف سے رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ لانے کی پیش کش کو پاکستان پیپلز پارٹی نے مسترد کردیا ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے مختصر گفت گو میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے لیے رضاربانی کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ رضاربانی اچھے چیئرمین سینیٹ رہے ہیں اور ہم ان کی حمایت کرنے کو تیار ہیں لیکن رضاربانی کے نام پر اتفاق نہ ہوا تو اپنا امیدوار لائیں گے۔ جب کہ مولانا فضل الرحمان، حاصل بزنجو اور محمود اچکزئی سے بھی رضاربانی کی حمایت کے لئے بات کی ہے۔

نواز شریف نے اتحادی جماعتوں کے سربراہان سے ملاقات کی، جس میں پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر مشاورت کی گئی ہے ۔ جب کہ بلوچستان کے آزاد سینیٹرز سے رابطوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں نواز شریف نے چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے مشترکہ امیدوار لانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اپنے اتحادیوں کو ہمیشہ کی طرح ساتھ لے کر چلیں گے۔

دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے رضاربانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے کی مخالفت کردی۔

صدر آصف علی زرداری نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی جس میں چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے آصف علی زرداری سے جب سوال کیا گیا کہ نوازشریف نے میاں رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے کی تجویز دی ہے جس پر آصف زرداری نے مختصراً جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ایسا نہیں چاہتا۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے لیے مولانا فضل الرحمان نے کچھ وقت مانگا ہے اور وہ پارٹی سے مشاورت کے بعد اس حوالے سے آگاہ کریں گے تاہم امید ہے۔ مولانا فضل الرحمان ہمیشہ کی طرح ہمارا ساتھ دیں گے۔

اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے لیے کچھ تجاویز پیپلز پارٹی اور کچھ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے آئی ہیں، ہم ان تجاویز کا جائزہ لیں گے اور اس سلسلے میں پارٹی کی مجلس عاملا کا اجلاس طلب کرکے مشاورت کریں گے اور اپنی تجاویز بھی پیش کریں گے۔

ملاقات سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری سے ملاقات میں مولانا فضل الرحمان نے چیئرمین سینیٹ کے لیے میاں رضا ربانی اور وائس چیئرمین کے لیے مولانا عبد الغفور حیدری کا نام تجویز کیا تھا۔

اس معاملے میں تیسری جماعت پاکستان تحریک انصاف نے چیئرمین کے انتخاب سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی سینیٹ انتخابات میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حمایت نہیں کرے گی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ عمران خان ہیں جو پیپلز پارٹی کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت کے لیے راضی نہیں۔

پی ٹی آئی نے پیپلز پارٹی کو اس حوالے سے آگاہ کیا تھا کہ بلوچستان کے آزاد گروپ کا امیدوار آیا تو تحریک انصاف حمایت کرے گی جبکہ پارٹی فاٹا ارکان کے امیدوار کی بھی حمایت کر سکتی ہے۔

ذرائع پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان چاہتے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ بلوچستان سے ہو، ن لیگ کا چیئرمین سینیٹ بنانے کا راستہ روکنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے سلیم مانڈوی والا اور شیری رحمان کے نام سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری میاں رضا ربانی کے نام پر تیار ہیں لیکن پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اس پر کسی صورت تیار نہیں۔

موجودہ صورت حال میں تمام سیاسی جماعتیں کوششوں میں مصروف ہیں کہ ان کے حمایت یافتہ امیدوار چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین بن سکیں، امکان ہے کہ آئندہ دو سے تین روز میں صورت حال واضح ہو جائے گی ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG