رسائی کے لنکس

پاکستان میں سزائے موت کے قانون پر انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے تو مخالفت جاری ہے لیکن اب حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک اہم راہنما سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بھی اس سزا کے خاطر خواہ مقاصد حاصل نہ ہونے کا خیال ظاہر کرتے ہوئے اس بارے میں قومی سطح پر مکالمے کا مطالبہ کیا ہے۔

قیدیوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک غیر سرکاری تنظیم 'جسٹس پراجیکٹ پاکستان' کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو سزائے موت کا کوئی خوف نہیں ہے جب کہ پیسے اور اثر و رسوخ والے مجرمان مقتولین کے لواحقین سے قصاص کے قانون کا سہارا لے کر سزائے موت سے بچ جاتے ہیں اور ان کے بقول پھانسی کا پھندا صرف غریب طبقے کا مجرم کے حصے میں ہی آتا ہے۔

انھوں نے اس معاملے پر تمام سماجی حلقوں بشمول سیاسی جماعتوں، وکلا، مذہبی دانشوروں اور ماہرین تعلیم کی شمولیت سے ایک وسیع مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔

حکومت نے دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملے کے بعد سزائے موت پر عملدرآمد پر چھ سال سے عائد پابندی ہٹا دی تھی جس کا پہلے اطلاق صرف دہشت گرد واقعات میں سزائے موت پانے والے مجرموں پر کیا گیا لیکن بعد ازاں اس کا دائرہ کار کسی بھی جرم میں سزائے موت کے مرتکب قیدیوں تک بڑھا دیا گیا۔

ان تقریباً تین سالوں میں پانچ سو کے لگ بھگ مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے لیکن ان میں 80 فیصد کے لگ بھگ مجرم دہشت گردی کے مقدمات کی بجائے دیگر جرائم میں اس سزا کے مرتکب قرار پائے تھے۔

جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی عہدیدار سارہ بلال نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سینیٹر فرحت اللہ بابر کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر سزائے موت کے قانون کی مخالفت تو نہیں کی جاتی لیکن یہ سزا دینے کے لیے کم سے کم نہایت ضروری تقاضوں کو مدنظر رکھنا اشد ضروری ہے۔

"پاسکتان میں 27 سے زائد جرائم ہیں جن پر سزائے موت دی جاتی ہے۔ یہ جرائم بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ مطلب یہ کہ ان میں تشدد کے علاوہ بھی جرائم شامل ہیں اس (تعداد) کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ جب پاکستان بنا تو سزائے موت صرف دو جرائم میں ہوتی تھی۔"

انھوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ حکومت اس بارے میں غور کرنے پر آمادہ ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ دہشت گردی کی واضح تعریف وضع کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں صرف اس جرم سے متعلق مقدمات سنے جائیں اور مجرموں کو سزائیں دی جائیں۔

ناقدین اور کئی قانونی ماہرین بھی ملک کے نظام انصاف میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG