رسائی کے لنکس

شکیل آفریدی کی سزا میں دس سال کمی کا فیصلہ


شکیل آفریدی (فائل فوٹو)
شکیل آفریدی (فائل فوٹو)

کشمنر پشاور نے شکیل آفریدی کی طرف سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قید بامشقت کے عرصے میں کمی کے علاوہ جرمانے میں بھی ایک لاکھ دس ہزار روپے کمی کا فیصلہ سنایا۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کی ایک عدالت نے شکیل آفریدی کی سزا میں دس سال اور جرمانے میں ایک لاکھ دس ہزار روپے کمی کا فیصلہ سنایا ہے۔

پشاور کے کشمنر منیر اعظم کی عدالت نے شکیل آفریدی کو پولیٹیکل ایجنٹ کی طرف سے سنائی گئی سزا کے خلاف دائر درخواست پر گزشتہ ماہ فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو ہفتہ کو سنایا گیا۔

شکیل آفریدی کو مئی 2011ء میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب یہ خبریں منظر عام پر آئیں کہ اس نے القاعدہ کے روپوش سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے لیے امریکی انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے کی مدد کی۔

لیکن 2012ء میں خیبر ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ نے شکیل آفریدی کو کالعدم شدت پسند تنظیم سے روابط کے الزام میں 33 سال قید بامشقت اور تین لاکھ 30 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

شکیل آفریدی کے وکلا نے اس سزا کے خلاف کمشنر پشاور کی عدالت میں درخواست دائر کی جس پر اُس وقت کے کمشنر صاحبزادہ انیس نے پولیٹکل انتظامیہ کو اس کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا کہا تھا۔ مگر ایک دوسری عدالت ایف سی آر ٹربیونل نے وکلا صفائی کے ذریعے ملزم کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کمشنر پشاور کو نظر ثانی کی اپیل کی سماعت کرنے کا حکم دیا تھا۔

شکیل آفریدی کے وکلا نے کمشنر کی عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ شکیل آفریدی کو قانون کے مطابق اپنی صفائی پیش کرنے کا حق دیا جائے اور ان کے مقدمے کی از سر نو سماعت کی جائے۔

کمشنر پشاور منیر اعظم نے اس پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

ملزم کے وکیل سمیع اللہ آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ سزا میں مزید کمی کے لیے دوبارہ اپیل دائر کریں گے۔

’’ہم نے ان (کمشنر) سے کہا کہ یہ کوئی تازہ درخواست تو نہیں ہے، یہ فاٹا ٹربیونل نے بھیجی ہے صرف اس نقظے کو واضح کرنے کے لیے کہ آیا اس پر وہاں ٹرائل دوبارہ ہو یا پھر صرف دلائل کی حد تک ہی بات رہے۔ لیکن کمشنر صاحب نے فاٹا ٹربیونل کے فیصلے کو نظر انداز کرکے نیا فیصلہ دیا۔ اگر قانون طور پر بھی دیکھا جائے تو کمشنر صاحب کو بھی صرف یہ نقاط ہی واضح کرنے تھے۔‘‘

شکیل آفریدی ان دنوں پشاور کی جیل میں اپنی سزا کاٹ رہا ہے اور اس معاملے کو لے کر امریکہ بارہا پاکستان سے انھیں رہا کرنے کا مطالبہ بھی کرچکا ہے۔ کیونکہ امریکی عہدیداروں کے بقول اس نے ایک عالمی دہشت گرد تنظیم کے روپوش سربراہ کی تلاش میں مدد دی۔

لیکن پاکستان یہ کہتا رہا ہے کہ شکیل آفریدی کا معاملہ عدالت میں ہے اور ان کی قسمت کا فیصلہ بھی عدالت ہی کرے گی۔
XS
SM
MD
LG