رسائی کے لنکس

پاکستان کے اوپنرز پچھلے میچ کی نسبت اچھا آغاز فراہم نہ کرسکے اور صرف 16 رنز کے مجموعی اسکور پر احمد شہزاد 15 گیندوں پر سست رفتار 5رنز بنا کر گیبریل کی گیند پروکٹ کے پیچھے کیچ آؤٹ ہوگئے

دوسرے ایک روزہ انٹرنیشنل میچ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو جیت کیلئے 283 رنز کا ہدف دیا ہے۔ بابر اعظم نے ناقابل شکست 125 رنز بنائے۔

ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کو ترجیح دی اور یوں پاکستان کو پہلے بیٹنگ کرنے کا موقع ملا۔

پاکستان کے اوپنرز پچھلے میچ کی نسبت اچھا آغاز فراہم نہ کرسکے اور صرف 16 رنز کے مجموعی اسکور پر احمد شہزاد 15 گیندوں پر سست رفتار 5 رنز بنا کر گیبریل کی گیند پروکٹ کے پیچھے کیچ آؤٹ ہوگئے۔

کامران اکمل بھی لمبی اننگز نہ کھیل سکے اور 21 رنز بنا کر جوزف کی گیند پر وکٹ کیپر ہوپ کو کیچ دے بیٹھے۔ دو وکٹیں جلد گرنے کے بعد ٹیم دباؤ کا شکار ہوگئی اور ویسٹ انڈیز کے بولرز نے بابر اعظم اور محمد حفیظ کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا اور رنز بنانے کی رفتار سست پڑگئی۔

دونوں بیٹسمینوں نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 96گیندوں پر 69 رنز بنائے، حفیظ 50 گیندوں پر 32 رنز بناکر چلتے بنے۔

شعیب ملک بھی ویسٹ انڈین بولرز کے سامنے بے بس نظر آئے اور 17 گیندوں پر صرف 9 رنز بناکر بشو کی گیند پر وکٹ کیپر ہوپ کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ سرفراز احمد 26 رنز کی اننگز کھیل کر پویلین لوٹ گئے۔

ایک موقع پر پاکستان ٹیم بڑا اسکور کرنے میں ناکام نظر آ رہی تھی۔ لیکن بابر اعظم اور عماد وسیم نے چھٹی وکٹ ناقابل شکست شراکت میں 99 رنز بنا کر ٹیم کا اسکور 282 رنز تک پہنچا دیا۔

بابر اعظم نے ناقابل شکست 125 رنز بنائے جو ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک روزہ میچوں میں ان کی چوتھی جبکہ مجموعی طور پر پانچویں سنچری ہے۔ عماد وسیم 43 رنزکے ساتھ ناٹ آؤٹ واپس آئے۔

ویسٹ انڈیز کی طرف سے گیبریل نے 2 جبکہ بشو اور نرس نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

واضح رہے کہ اسی گراؤنڈ پر کھیلے گئے پہلے ون ڈے میچ میں 309رنز کا ہدف دینے کے باوجود پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، ویسٹ انڈیز نے مطلوبہ ہدف 6 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا تھا جبکہ ایک اوور باقی تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG