رسائی کے لنکس

logo-print

خواتین کی ووٹنگ کی کم شرح پر شانگلہ میں انتخابات کالعدم


(فائل فوٹو)

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا کے شمالی پہاڑی ضلع شانگلہ کے صوبائی اسمبلی کے ایک نشست پر خواتین کے ووٹ کم پول ہونے کی بنیاد پر کالعدم قراردیا ہے۔

صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 23 کے اس نشست سے پاکستان تحریک انصاف کے شوکت علی یوسفزئی کو 25 جولائی کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجے میں کامیاب قرار دیا گیا تھا۔

ابتدائی غیرسرکاری نتائج کے مطابق شوکت علی یوسفزئی نے 17399 ووٹ لئے تھے جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے پاکستان مسلم لیگ(ن)کے امیدوار محمد رشاد خان نے 15533 ووٹ حاصل کئے تھے۔

شوکت علی یوسفزئی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کے بارے میں وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں ہے ان کے بقول الیکشن کمیشن کوچاہیے تھا کہ ان پولنگ سٹیشن پر دوبارہ انتخابات کاحکم دیتے جہاں پرخواتین کے ووٹ کم پول ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ دوبارہ الیکشن سے نہ صرف ان کے بلکہ عام لوگوں کو مشکلات ہوں گی کیونکہ یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے اور دوبارہ انتخابات پر کافی اخراجات ہوں گے۔

تاہم خواتین کے حقوق کی تحفظ کے لئے کوشاں رخشندہ ناز نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو خوش آئند قراردیا ہے اور کہا کہ الیکشن کمیشن کو دیگرحلقوں جس میں جنوبی وزیرستان سے قومی اسمبلی کا ایک حلقہ شامل ہے پر بھی انتخابات کو کالعدم قرار دے۔

شانگلہ کی اس نشست پردوبارہ انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن نے ابھی تک کسی تاریخ کااعلان نہیں کیا ہے مگر بتایا جاتا ہے کہ یہ نشست بھی دیگرحلقوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں شامل ہو گا 25 جولائی کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوامیں واضح برتری حاصل کی تھی اس ایک نشست پر انتخابات کے کالعدم ہونے سے پاکستان تحریک انصاف کی برتری متاثرنہیں ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG