رسائی کے لنکس

جنوبی ایشیا کے دو روایتی حریف ملکوں پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کی درمیان اتوار کو لندن کے اوول کرکٹ گروانڈ میں 'آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی' کا فائنل میچ کھیلا جارہا ہے جس کا کرکٹ شائقین بڑی بے تابی سے انتظار کررہے ہیں جبکہ ٹیلی وژن چینلز کی اسکرینز اور سماجی میڈیا پر بھی اس وقت اسی کا چرچا ہے۔

گروپ میچ میں بھارت سے شکست کے بعد قومی ٹیم کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن بعد میں کھیلے گئے تمام میچوں میں پاکستانی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور گروپ میچوں میں ناقابل شکست رہنے والی انگلینڈ کی ٹیم کو پچھاڑ کر پہلی مرتبہ چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل تک رسائی میں کامیاب ہوئی۔

دوسری طرف بھارت نے بنگلادیش کو سیمی فائنل میں ہرا کو فائنل میچ کھیلینے کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔

اگرچہ بھارت پول میچ میں پاکستان کو ہرا چکا ہے تاہم پاکستان میں مبصرین اور شائقین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے جس طرح اپنے باقی میچ جیتے یہ اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان بھارت کے خلاف یقنیاً بہتر کھیل کا مظاہرہ کرے گا۔

ایسے میں پاکستانی شائقین کی طرف سے قومی ٹیم کے لیے نیک تمناؤں کے پیغامات کے ساتھ ساتھ مشورے بھی سامنے آ ر ہے ہیں۔

اسلام آباد کے رہائشی سرفراز احمد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ،" کسی دباؤ کے نیچے آکر میچ مت کھیلیں، ڈر کے میچ نا کھیلے، بالکل کھلے(دل) سے میچ کھیلیں جیسے ایک آدمی سامنے کھڑا ہے وہ باؤلنگ کروا رہا ہے اور ہم نے بیٹنگ کرنی ہے۔۔۔اس کو کھل کر شارٹ ماریں ، بے ڈر ہو کر کھیلیں ، ہم کامیاب ہوں گے۔"

یحییٰ ابرار نے کہا اگر پاکستان ٹاس جیتتا ہے تو اسے پہلے بیٹنگ کرنی چاہیے۔

" ان کو چاہیے کہ پہلے بیٹنگ کریں اور ایک ٹارگٹ سیٹ کریں کیونکہ ہمارے باؤلر اچھے ہیں اور وہ (بھارتی بلے باز) دباؤ میں ہو ں گے یہ فائنل ہے اور فائنل کا کچھ بھی (نتیجہ ) ہو سکتا ہے کیونکہ ایک ہی میچ ہے چاھے ایک رن سے جیت جائیں چاھے سو رنز سے جیت جائیں۔"

کامران رضا کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو جارحانہ کرکٹ کھیلنی چاہیے۔

" جارحانہ کرکٹ، اس لیے کہ انڈیا کا آپ کو پتہ ہے ان کی بیٹنگ مضبوط ہے اگر آپ انہیں 350 رنز کا ٹارگٹ دیں گے تو یہ حاصل کیا جا سکتا ہے آپ کو اپنی نیچرل گیم اور جارحانہ گیم کرنی ہے جس طرح فخر زمان جارحانہ انداز میں کھیل رہے ہیں۔ "

اسی دوران کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور حزب مخالف کے موجودہ سیاسی راہنما عمران خان نے بھی ٹیم کو دباؤ میں آئے بغیر کھیلنے کا مشورہ دیا ہے۔ ہفتہ کو نتھیا گلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ " " میرے خیال میں پاکستان کی طاقت اب تک باؤلنگ ہے حسن علی نے اور اسپنر نے زبردست باؤلنگ کی ہے۔ہندوستان کی طاقت اس کی بیٹنگ ہے۔میرے خیال میں پاکستان کو بیٹنگ پہلے کرنی چاہیے جو اب تک نہیں کرتے رہے وہ اس لیےکرنی چاہیے کہ اگر باولنگ ان کی طاقت ہے تو پہلے بیٹنگکرنے میں دباؤ نہیں ہوتا ہے جتنا بھی وہ اسکور کریں گے ان (پاکستان) کی باؤلنگ ایسی ہے جو اس کا دفاع کر سکتی ہے۔"

پاکستان اور بھارت کے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ رابطے بھی تعطل کا شکار ہیں لیکن کامران رضا کا کہنا ہے کہ کرکٹ دنوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ " کرکٹ ڈپلومیسی وہ چیز ہے جس کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات مثبت سمت اختیار کرتے ہیں اور دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کرکٹ کھیلنی چاہیے اس سے دنوں کے باہمی تعلقات بھی بہتر ہوں گے۔"

پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر نظر رکھنے والے بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ رابطے اس وقت تک بحال نہیں ہو سکتی ہے جب اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان معمول کے تعلقات بحال نہیں ہوتے ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG