رسائی کے لنکس

logo-print

دو مغوی سکھوں کو بازیاب کرالیا گیا


دو مغوی سکھوں کو بازیاب کرالیا گیا

پاکستانی سکیورٹی فورسز نے پیر کے روز خیبر ایجنسی میں ایک کارروائی کرکے ان تین میں سے دو سکھوں کو بازیاب کرا لیا ہے جنہیں جنوری کے مہینے میں اغواء کیا گیاتھا۔

اغواء ہونے والے تیسرے سکھ جسپال سنگھ کی سربریدہ لاش گذشتہ ہفتے اس قبائلی علاقے سے حکام کو ملی تھی۔

اغواء کاروں نے اقلیتی سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے تینوں مغویوں کی رہائی کے بدلے بھاری تاوان کا مطالبہ کررکھا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ سرجیت سنگھ اور گروندر سنگھ کی رہائی کے لیے کیے جانے والے آپریشن کے دوران کچھ دہشت گرد ہلاک اور چند ایک کوگرفتار بھی کیا گیا ہے۔

پاکستان میں سکھوں کی ایک چھوٹی اقلیت آباد ہے لیکن ان کی ایک نمایاں تعداد خیبرایجنسی کی وادی تیراہ اور شمال مغربی صوبہ سرحد کے دوسرے علاقوں میں مقیم ہے اور زیادہ تر یہ لوگ نجی کاروبار سے منسلک ہیں۔

افغان سرحد سے ملحق خیبر ایجنسی ایک طویل عرصے سے جرائم پیشہ افراد،اغواء کاروں اور منشیات فروشوں کا گڑھ رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جرائم میں ملوث ان افراد نے حالیہ برسوں میں طالبان انتہا پسندوں کے ساتھ قریبی تعلق استوار کرلیے ہیں۔

دریں اثناء شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا جب کہ حکام نے بتایا ہے کہ پیر کو وادی سوات کے ایک علاقے میں پانچ عسکریت پسندوں کی لاشیں ملی ہیں جن میں ایک مبینہ طور پر مفرور کمانڈر مولانا فضل اللہ کا قریبی ساتھی محمد عالم تھا جو کہ بنیر میں طالبان کا کمانڈر تھا۔

XS
SM
MD
LG