رسائی کے لنکس

logo-print

سکھ شہری کو مذہب تبدیل کرنے کی مبینہ دعوت کی تحقیقات کا مطالبہ


پاکستانی حکومت میں شامل عہدیدار یہ کہتے رہے ہیں کہ ملک میں بسنے والے تمام افراد کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے اور حکومت اس ضمن میں اپنی ذمہ داری نبھائے گی۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں سکھ برداری سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو سرکاری افسر کی طرف سے مذہب تبدیل کرنے کی مبینہ دعوت سے متعلق خبروں پر انسانی حقوق کی ایک بڑی تنظیم کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایک غیر جانبدار تنظیم ہومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر مہدی حسن نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ایسی خبروں کی اگرچہ تصدیق تو نہیں ہوئی ہے لیکن یہ باعث تشویش ہیں۔

’’پاکستانی آئین کے مطابق ہر ایک کو مذہبی آزادی حاصل ہے، لہذا یہ تشویشناک بات ہے، ابھی تک ہمیں ایسی شکایت نہیں ملی ہے لیکن ہم علاقے میں اپنے سرگرم کارکن سے اس بارے میں بات کر کے تحقیقات کریں گے۔‘‘

واضح رہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع ہنگو سے ایسی خبر سامنے آئی تھی کہ سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے مقامی تاجروں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران ضلعی اسٹنٹ کمشنر نے مبینہ طور ایک سکھ دکاندار کو اسلام قبول کرنے کا کہا۔

اطلاعات کے مطابق مقامی سکھ برداری کی شکایت پر بعد ازاں ضلعی انتظامیہ نے نا صرف مذکورہ افسر کی تبدیلی کر دی بلکہ غلطی فہمی کو افہام و تفہیم سے حل کر لیا گیا۔

لیکن پاکستانی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی خبر کے بعد بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ اس معاملے کو پاکستان کے ساتھ اعلیٰ سطح پر اٹھایا جائے گا۔

ایچ آر سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ ایسی خبروں سے پاکستان کا تشخص متاثر ہوتا ہے۔

’’بدنامی کا سبب بھی ہے اور پاکستان میں عدم استحکام کا بھی سبب بند سکتا ہے۔ لوگ ناراض ہو سکتے ہیں۔ معاشرہ تقسیم ہو سکتا ہے۔ یہ سب چیزیں قابل غور ہیں۔‘‘

صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے متحرک رکن شوکت یوسف زئی نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی۔

’’مجھے نہیں لگتا کہ کوئی مسئلہ ہوا ہے اور اگر ہوا بھی ہے تو صوبائی حکومت اس کی تحقیقات کرے گی اور یہ ایک حساس مسئلہ ہے اور اسلام نے ہمیشہ میانہ روی کا درس دیا ہے۔ اسلام کبھی بھی یہ نہیں چاہتا کہ آپ کسی کو زبردستی مسلمان بنائیں۔ مجھے تو یہ فرضی کہانی لگتی ہے۔ اگر کچھ ہے تو سخت ایکشن بھی ہو گا اور کسی کو حق حاصل نہیں ہے کہ کسی پر دباؤ ڈال کر اس کا مذہب تبدیل کیا جائے۔‘‘

رواں سال مذہبی آزادی سے متعلق سالانہ عالمی رپورٹ کے اجرا کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان میں مذہبی آزادی کو سنگین خطرہ لاحق ہو گیا ہے جہاں دو درجن سے زائد افراد کو توہین مذہب کے جرم میں سزائے موت یا عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

تاہم پاکستانی حکومت میں شامل عہدیدار یہ کہتے رہے ہیں کہ ملک میں بسنے والے تمام افراد کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے اور حکومت اس ضمن میں اپنی ذمہ داری نبھائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG