رسائی کے لنکس

خانیوال: سکیورٹی فورسز کی کارروائی، چھ 'دہشت گرد' ہلاک


فائل فوٹو

ملک کے مخلتف بڑے شہروں میں ہونے والے دہشت گرد واقعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے خلاف کارروائیوں کو تیز کیا گیا ہے۔

پاکستان میں سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران چھ مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا بتایا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ کارروائی بدھ کو دیر گئے پنجاب کے ضلع خانیوال میں جہانیہ کے علاقے میں کی گئی۔

اطلاعات کے مطابق پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے جب چھاپہ مارا تو یہاں موجود مشتبہ دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی اور جوابی فائرنگ میں چھ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے جب کہ دیگر چار تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مارے جانے والے مشتبہ دہشت گردوں کا تعلق کالعدم شدت پسند گروپ جماعت الاحرار سے تھا۔

ایک ہفتے کے دوران ملک کے مختلف بڑے شہروں میں ہونے والے دہشت گرد واقعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے خلاف کارروائیوں کو تیز کیا گیا ہے۔

بدھ کو شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے مرکزی شہر پشاور میں ماتحت عدلیہ کے ججز کو لے جانے والی ایک گاڑی کو خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں گاڑی کا ڈرائیور ہلاک اور ججز سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے تھے۔

بدھ ہی کو قبائلی علاقے مہمند ایجنسی کے مرکزی قصبے غلنئی میں پولیٹیکل انتظامیہ کے دفتر پر ہونے والے خودکش حملے میں تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افراد مارے گئے تھے۔

لاہور میں چیئرنگ کراس پر ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد کا منظر
لاہور میں چیئرنگ کراس پر ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد کا منظر

ان واقعات سے صرف دو روز قبل ہی پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے میں دو اعلیٰ پولیس افسران سمیت کم ازکم 15 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ اسی روز کوئٹہ میں دو پولیس اہلکار اس وقت موت کا شکار ہوئے جب وہ دہشت گردوں کی طرف سے نصب ایک بم کو ناکارہ بنا رہے تھے کہ اس میں اچانک دھماکا ہو گیا۔

گزشتہ ہفتے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس کی ایک بکتر بند گاڑی پر کریکر بم سے حملہ کیا گیا جس سے کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن اس واقعے کی کوریج کے لیے جیسے ہی ذرائع ابلاغ کے نمائندے جائے وقوع پر پہنچے تو مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ سے نجی ٹی وی چینل کا ایک معاون کیمرہ مین ہلاک ہو گیا تھا۔

دہشت گردی کی اس حالیہ لہر پر حزب مخالف اور ملک کے مختلف حلقوں کی طرف سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دہشت گردی و انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے وضع کردہ قومی لائحہ عمل کا جائزہ لینے اور اس پر سنجیدگی سے عملدرآمد کا مطالبہ کیا تھا۔

وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک بھر میں دہشت گردوں اور ان کے معاونین کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے بھی یہ بیان آچکا ہے کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف حاصل کی جانے والی کامیابیوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گی۔

XS
SM
MD
LG