رسائی کے لنکس

logo-print

تمباکو نوشی کے خلاف مواد تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے کا فیصلہ


تمباکو نوشی کے خلاف مواد تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے کا فیصلہ

اگر ایک شخص سگریٹ پینا چھوڑ دے تو 48 گھنٹوں کے اندر اندر اس کے پھیپھٹروں کو فوائد پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں جبکہ پینتیس سال سے کم عمر تک اگرکوئی یہ نشہ چھوڑ دیے تو اس کی اوسط عمر اس شخص کے برابر ہی ہو جاتی جس نے کبھی سگریٹ نہ پی ہو

سگریٹ کی ڈبیوں پر تصویری انتباہ ، پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی کی ممانعت اور میڈیا میں اس کی تشہیر پر پابندی کے بعد اب حکومت تمباکو نوشی کے خطرناک اثرات کے بارے میں آگاہی کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے جا رہی ہے تاکہ نئی نسل اس نشے میں مبتلا نہ ہو۔

سرکاری جائزے کے مطابق سگریٹ نوشی سے لاحق ہونے والے امراض بشمول گلے کے کینسر، سانس اور دل کی بیماریوں کی وجہ سے ہر سال ملک میں ایک لاکھ افراد ہلاک ہو رہے ہیں جبکہ روزانہ پانچ ہزار افراد انہی بیماریوں کی وجہ سے ہسپتالوں میں داخل ہو رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں وفاقی وزارت صحت کے محکمہ تمباکو کنٹرول کے ڈائریکٹر جنرل یوسف خان نے کہا کہ تعلیمی نصاب میں سگریٹ نوشی کے خلاف مواد ملک بھر کے سکولوں میں ہر سطح پر شامل کر کے نئی نسل کو اس بات سے آگاہ کیا جائے گا کہ سگریٹ پینا نا صرف عادی افراد بلکہ ان کی صحبت میں رہنے والوں کی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں نوجوانوں کے سگریٹ نوشی کی طرف رجحان کی سب سے بنیادی وجہ اس کی انتہائی سستی قیمت پر دستیابی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب حکومت نجی شعبے کے ساتھ مل کر کے سگریٹ مہنگا سے مہنگا کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے تاکہ تمباکو کا حصول ملک کی اکثریت کے لئے دشوار ہوجائے۔

تمباکو نوشی کے خلاف مواد تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے کا فیصلہ
تمباکو نوشی کے خلاف مواد تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی کے خلاف حکومتی مہم بشمول سگریٹ کی ڈبیوں پر تصویری انتباہ کے اثرات جاننے کے لئے اگرچہ ابھی کوئی مستند جائزہ مرتب نہیں کیا گیا لیکن غیر سرکاری اندازے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ایک سال کے اندر سگریٹ کی سالانہ پیداوار میں دو ارب تک کمی آئی ہے ’’اور پیدوار میں کمی کھپت میں کمی کو ظاہر کرتی ہے‘‘۔

یوسف خان نے بتایا کہ پاکستان میں مردوں کی بالغ آبادی کا بیس فیصد تمباکو نوشی کرتے ہیں جبکہ بچوں کے بارے میں درست اعداد و شمار دستیاب نہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ سگریٹ پینے کے رجحان میں کمی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حالیہ سالوں میں سگریٹ کی روزانہ فی کس کھپت انیس تھی جو اب کم ہو کر سترہ رہی گئی ہے۔

ڈائریکٹرجنرل کا کہنا تھا کہ تمباکو نوشی پر کنڑول کے لئے ابھی بہت کام کرنا باقی ہے ’’کیونکہ سگریٹ نوشی ایک عادت نہیں بلکہ نشہ ہے اور پینے والے کے لیے نیکوٹین ترک کرنا اسی طرح مشکل ہوتا ہے جیسے کسی کے لئے ہیروئن سے نجات حاصل کرنا‘‘۔

یوسف خان نے بتایا کہ پاکستان میں تمباکو انڈسٹری کا اثرو رسوخ اس لیے زیادہ ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں حاصل ہونے والا تیس فیصد پیسہ اسی صنعت سے آ رہا ہے۔ تاہم ان کے مطابق یہ بھی حقیقت ہے کہ تمباکو نوشی سے معاشرے کی صحت متاثر ہونے سے جو مجموعی خرچ اٹھ رہا ہے وہ حاصل ہونے والی رقم سے کہیں زیادہ ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں ایک سیمینار کے دوران ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ سگریٹ انڈسٹری پر زیا دہ سے زیادہ ٹیکس عائد کیے جایئں تاکہ یہ سگریٹ مہنگی ہوں اور عوام کے لیے یہ حاصل کرنا مشکل ہو جائے۔

تقریب سے خطاب میں ٹی بی کے خلاف عالمی یونین کے ڈاکٹر فواد اسلم نے بتایا کہ عالمی جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کے 75 فیصد افرد نے تمباکو نوشی اپنی قوت ارادی سے ترک کی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایک شخص سگریٹ پینا چھوڑ دے تو 48 گھنٹوں کے اندر اندر اس کے پھیپھٹروں کو فوائد پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں جبکہ پینتیس سال سے کم عمر تک اگرکوئی یہ نشہ چھوڑ دیے تو اس کی اوسط عمر اس شخص کے برابر ہی ہو جاتی جس نے کبھی سگریٹ نہ پی ہو۔

XS
SM
MD
LG