رسائی کے لنکس

logo-print

مہنگائی میں اضافہ، شرح سود ڈیڑھ فیصد بڑھانے کا فیصلہ


پاکستان کے مرکزی بینک نے آئندہ دو ماہ کے لیے مالیاتی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ملک میں رائج شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد شرح 12 اعشاریہ 25 فیصد پر آ گئی ہے۔

پیر کو اسٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں مالیاتی پالیسی کا اعلان کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ملک میں افراطِ زر یعنی مہنگائی کی شرح سات فیصد تک ہو گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح بڑھنے، روپے کی قدر کم ہونے، اخراجات اور آمدن میں عدم توازن اور بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک میں شرح سود کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ملک میں زراعت اور صنعت کے شعبے میں سست روی کا امکان ہے، جس کے باعث اقتصادی شرح نمو بھی سست رہے گی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی دیگر وجوہات کے علاوہ طلب اور رسد بھی ہیں اور بینک صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان کے مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ غیر ضروری درآمدت کو کنٹرول کرنے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلاتِ زر کے سبب خسارے میں کمی ہوئی ہے۔ لیکن، حکومت نے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک سے بڑی تعداد میں قرض لیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، جولائی 2018 میں مئی تک حکومت نے اسٹیٹ بینک سے 4800 ارب روپے کا قرض لیا ہے اور کمرشل بینکوں کی جانب سے حکومت کو قرض دینے میں تاخیر کی وجہ سے اسٹیٹ بینک سے قرض لینے پر انحصار کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نوٹ چھاپ کر حکومت کو قرض دیتی ہے جس سے ملک میں افراط زر میں اضافہ ہوتا ہے۔

شرح سود میں مسلسل اضافہ کیوں؟

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ عموماً ملک میں مہنگائی کی شرح کو کنڑول کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ لیکن، پاکستان کی معیشت کے لحاظ سے یہ اقتصادی فارمولا کارگر ثابت نہیں ہو رہا ہے۔

اقتصادی تجزیہ کار خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ شرح سود بڑھنے سے اس وقت سب سے زیادہ نقصان خود حکومت کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے خسارے کو پورا کرنے کے لیے بینکوں سے قرض لے رہی ہے اور ڈیڑھ فیصد شرح سود میں اضافے سے حکومت کو سود کی ادائیگی کی مد میں اضافی ساڑھے تین سو ارب روپے ادا کرنا پڑیں گے۔

شرح سود بڑھنے سے ملک میں مہنگائی کی شرح کم کیوں نہیں ہو رہی اس سوال کے جواب میں خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مہنگائی اس وجہ سے نہیں ہے۔ چیزوں کی طلب زیادہ ہے، بلکہ روپے کی قدر کم ہونے سے اشیا کی پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے اور شرح سود بڑھنے سے مہنگائی کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کو اپنے اقتصادی ماڈل پر نظر ثانی کرنی چاہیے، کیونکہ شرح سود میں مسلسل اضافے سے سرمایہ کاری کم ہو گی اور نجی شعبے کے بینکوں سے قرض لے کر کاروبار شروع کرنا مشکل ہو جائے گا۔

خرم شہزاد کے مطابق، سرمایہ کاری نہ ہونے سے ملازمتوں کے مواقع پیدا نہیں ہوں گے اور معیشت سست روی کا شکار رہے گی۔

پاکستان کی سیاسی جماعتیں بھی شرح سود میں اضافے پر حکومت کو تنیقد کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

اسٹیٹ بینک کی مالیاتی پالیسی کا اعلان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب حال ہی میں پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ چھ ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج پر اتفاق کیا ہے۔ اگرچہ معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، لیکن مبصرین کے خیال میں اس پروگرام کے تحت معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG