رسائی کے لنکس

logo-print

ملک بقا کی جنگ لڑ رہا ہے: اسفندیار ولی



صوبہٴ سرحد کے ضلع لکی مروت میں ایک روز قبل ہونے والے خودکش کار بم حملے کے بعد صوبہٴ سرحد میں برسرِ اقتدار جماعت عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ اسفندیار ولی نے ہفتے کو پشاور میں اخباری کانفرنس میں کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو یکجا ہوجانا چاہیئے۔

اسفندیار ولی کا کہنا تھا کہ ملک اِس وقت بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔

اُن کے الفاظ میں ‘یہ جنگ ملاکنڈ میں لڑی گئی۔ سوات میں لڑی گئی۔ بونیر میں لڑی گئی۔ آج وزیرستان میں لڑی جارہی ہے۔ آج اورکزئی میں لڑی جارہی ہے۔ درے میں لڑی جار ہی ہے۔ ہنگو میں لڑی جا رہی ہے۔ جتنی بھی سیاسی اور مذہبی طاقتین ہیں وہ سب اِس نزاکت کو پہچان لیں ۔’

اسفندیار ولی نے مزید کہا کہ بجائے اِس کے کہ آپس میں لڑا جائے، ضرورت اِس بات کی ہے کہ سیاسی و مذہبی جماعتیں دشمن کو پہچانیں اور اُس کا مل کر مقابلہ کریں۔ ‘ ان کو چاہیئے کہ وہ دشمن جو اِس ملک کی تباہی کا ذمہ دار ہے، وہ دشمن جو لکی مروت کا ذمہ دار ہے، وہ دشمن جو راولپنڈی کی اُس مسجد کا ذمہ دار ہے، وہ دشمن جو کراچی کا ذمہ دار ہے۔ اُن دشمنوں سے پہلے اکٹھے نمٹیں اُس کے بعد پھر آپس میں بیٹھ کر بات کر لیں گے۔’

اُدھر وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی حکومت دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کہ دہشت گرد کا ایک ہی ایجنڈا ہے، کہ کس طرح سے عمل داری اور نظم و ضبط کو خراب کیاجائے۔ دشمن چاہتا ہے کہ حکومت کو غیر مستحکم کیا جائےاور خوف پیدا کیا جائے۔

‘ اب عوام میں آگہی آچکی ہے اور عوام سمجھ چکے ہیں کہ اُن کا جو دشمن ہے وہ دہشت گرد ہے جِس کا ایجنڈا وہ ملک کو نقصان دینا ہے ، جب کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف ہو چکی ہے۔ قوم دہشت گرد کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتی۔’

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دنیا کوبتا دیا ہے کہ پاکستان میں اہلیت اور عزم کمی نہیں۔ ‘ہم چاہتے ہیں کہ دہشت گردی ختم ہوجائے، مگر ہماری استعداد بڑھانی چاہیئے اور پوری دنیا اِس چیز کو مان چکی ہے کہ پاکستان کی استعداد بڑھائی جائے۔’

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت صرف اُس صورت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکتی ہے جب ریاست کے تمام ادارے مل کر انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں شامل ہوں۔

اِس بارے میں وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ تمام ادارے اپنے اپنے دائرہٴ کار میں رہ کر کام کر رہے ہیں اور فوج اور سول حکومت میں کسی طرح کے اختلافات نہیں ۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اُن کی حکومت کے فوج کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری لڑائی میں حکومت اور فوج کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

XS
SM
MD
LG