رسائی کے لنکس

logo-print

لورالائی میں پولیس مرکز پر حملہ، تین دہشت گردوں سمیت چار افراد ہلاک


لورالائی میں سیکورٹی فورسز کا مرکز، فائل فوٹو

بلوچستان کے ضلع لورالائی میں پولیس کے مرکز پر خودکش حملے میں ایک پولیس اہل کار ہلاک اور ایک خاتون سمیت تین افراد زخمی ہو گئے جب کہ تینوں حملہ آور بھی مارے گئے۔ تحریک طالبان پاکستان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

لورالائی پولیس کے ذرائع نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بدھ کی صبح ساڑھے سات بجے تین مسلح دہشت گرد پولیس لائن کے مرکزی دروازے پر آئے جہاں ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا کر گیٹ تباہ کر دیا۔

دھماکے کے بعد دو دہشت گردوں نے پولیس لائن میں داخل ہو کر فائرنگ شروع کر دی جس کی زد میں آ کر ایک پولیس اہل کار ہلاک اور ایک خاتون سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔

اسی دوران دوسرے خودکش حملہ آور نے بھی خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ جب کہ تیسرا دہشت گرد پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کی صبح تین دہشت گردوں نے پولیس لائن لورالائی میں داخل ہونے کی کو شش کی۔ جس کا داخلی دروازے پر موثر جواب دیا گیا۔ ایک خودکش بمبار کو گیٹ پر ہلاک کر دیا گیا جب کہ باقی دو پولیس لائن میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے ان کے ساتھ مقابلہ جاری رکھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فرنٹیئر کور بلوچستان، پولیس اور سریع الحرکت فورس کے اہل کاروں نے فوری طور پر پولیس لائن پہنچ کر پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں دوسرے خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جب کہ تیسرے حملہ آور کو سیکورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا۔ اس دوران گولی لگنے سے پولیس کا ایک ہیڈکانسٹیبل ہلاک اور دو اہل کار زخمی ہو گئے۔

سیکورٹی فورسز نے علاقے کو اب کلیئر کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے لورالائی پولیس لائن پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے اہل کار کی تعزیت کی ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سیکورٹی ادارے ہر قسم کی صورت حال سے نمبٹے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

اس سے قبل لورالائی کینٹ پر حملے ہو چکے ہیں۔ رواں سال کے پہلے دو ماہ میں کنٹونمنٹ پر دو بار حملے کیے گئے جس میں ایک اعلیٰ عہدے دار سمیت ایک درجن کے لگ بھگ سیکورٹی اہل کار ہلاک ہو گئے تھے۔

لورالائی سے متصل ضلع ہرنائی میں ایک چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے میں لیویز کے چھ اہل کار ہلاک ہو گئے تھے۔

جب کہ عید الفطر کے دوسرے دن لورالائی کے قریب واقع ایک تفریحی مقام زیارت میں دو بم دھماکوں میں شیعہ برادری کے پانچ افراد ہلاک اور ایک درجن زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG