رسائی کے لنکس

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منصور شاہ نے ہدایت کی تھی کہ مردم شماری کے فارم میں ضروری ترامیم کر کے اس میں معذور افراد کے اندراج کے لیے الگ خانہ بنایا جائے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے شماریات سے متعلق سرکاری ادارے کو ملک میں جاری مردم شماری کے دوران معذور افراد سے متعلق اعداد و شمار کے حصول کے لیے فارم میں ترمیم کرنے کا حکم دیا ہے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے جمعرات کو پاکستان بیورو آف شماریات کے حکام کو حکم دیا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں جس میں معذور افراد سے متعلق اعداد و شمار بھی جمع کرنےکی ہدایت کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منصور شاہ نے ہدایت کی تھی کہ مردم شماری کے فارم میں ضروری ترامیم کر کے اس میں معذور افراد کے اندراج کے لیے الگ خانہ بنایا جائے۔

پاکستان میں مردم شماری کے پہلا مرحلے کا آغاز رواں ہفتہ ہوا۔

پاکستان میں معذور افراد اور خواجہ سرا ایک طویل عرصے سے یہ مطالبہ کرتے چلے آ رہے کہ ان کے بارے میں صیح اعداد و شمار کو جمع کیا جائے تاکہ ان کے حقوق کے تحفظ کو یقنیی بنانے کے لیے قومی سطح پر مناسب قانونی سازی اور منصوبہ بندی کی جا سکے۔

معذور افراد کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم "سایہ" کے سربراہ عاصم ظفر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاحال پاکستان میں معذور افراد سے متعلق کوئی مصدقہ اعداوشمار موجود نہیں ہیں جو ان کے بقول جسمانی معذوری کے شکار افراد سے متعلق قانون سازی اور منصوبہ بندی کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اگرچہ ملک میں بسنے والے خواجہ سراؤں سے متعلق اعدادو شمار موجود نہیں لیکن رواں ماہ شروع ہونے والی مردم شمار ی کے دوران پہلی بار خواجہ سراؤں سے متعلق اعدادوشمار بھی جمع کیے جائیں گے۔

پاکستان کی آئین کی رو سے ہر دس سال کے بعد ملک میں مردم شماری کروانا ضروری ہے تاہم ملک میں آخری مردم شماری 1998 میں ہوئی تھی تاہم اب 19 سالوں کے بعد اس کا دوبارہ انعقاد کیا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG