رسائی کے لنکس

logo-print

مثال قائم کرنا چاہتے ہیں کہ بڑے آدمی چھوٹوں کو نہیں روند سکتے: چیف جسٹس


فائل

سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر اعظم سواتی کے اثاثوں کی تحقیقات کا معاملہ ایف بی آر کو بھجوا دیا ہے۔ منگل کے روز کی سماعت کے دوران، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اعظم سواتی ''کرتا دھرتا بڑا آدمی ہے، اس لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ مثال قائم کرنا چاہتے ہیں کہ بڑے آدمی چھوٹوں کو نہیں روند سکتے''۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے آئی جی اسلام آباد کے تبادلے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت، عدالتی معاون فیصل صدیقی نے انکشاف کیا کہ 'جے آئی ٹی' کے مطابق، ''اعظم سواتی کے اثاثے آمدن سے زیادہ ہیں۔ انہوں نے 101 کنال اراضی بھی ظاہر نہیں کی۔ ان اثاثوں میں اضافے کا ٹھوس جواب بھی نہیں دیا گیا۔ عدالتی معاون نے اختیارات کے ناجائز استعمال پر فوجداری کارروائی کی سفارش کر دی۔''

چیف جسٹس نے کہا کہ ''استعفیٰ وزارت سے دیا گیا ہے، ابھی بھی وزارت پر اعظم سواتی کا نام چل رہا ہے۔ کیا اعظم سواتی رکن اسمبلی رہنے کے اہل ہیں؟''

انہوں نے کہا کہ ''اعظم سواتی میرے جانے کے دن گن رہے ہیں۔ عدالت نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت اہلیت دیکھنا ہے، عدالت 184/3 میں کئی ارکان پارلیمنٹ کو نااہل کر چکی ہے۔ کیا ہمسایوں کو گرفتار کروانے والا دیانتدار اور راست باز ہو سکتا ہے؟''

دوران سماعت، عدالت کے استفسار پر آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ اعظم سواتی کے بیٹے عثمان سواتی اور چار دیگر کے خلاف مقدمات درج ہیں۔ ملزمان کی ضمانت منسوخی کیلئے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

اس پر، چیف جسٹس نے کہا کہ ''سارا کیا دھرا اعظم سواتی کا ہے۔ آئی جی کو ٹیلی فون اعظم سواتی نے کئے تھے۔ جے آئی ٹی رپورٹ بھی اعظم سواتی کے خلاف ہے۔ آپ کو کس نے آئی جی بنایا ہے۔ آپ اعظم سواتی کو بچانے کے لئے بیٹھے ہیں''۔

چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ''اگر لوگوں کو انصاف نہیں دینا تو کس چیز کے آئی جی لگے ہیں؟ غریب لوگوں کو مارا پیٹا گیا۔ آپ سے کہا داد رسی کریں۔ لیکن آپ بھی مل گئے۔ ہمیں پولیس سے شرم آرہی ہے۔ آئی جی اسلام آباد کے حوالے سے عدالت کا تاثر اچھا نہیں۔ بات نہ سننے والا ٹرانسفر ہو جائے گا اور بات ماننے والا تعینات ہوجائے گا''۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ''ہم مثال قائم کرنا چاہتے ہیں بڑے آدمی چھوٹوں کو روند نہیں سکتے۔ یہاں پر سزا بھی ملے گی۔ ہم اعظم سواتی کو 62 ون ایف کا نوٹس کر دیتے ہیں، کیونکہ پولیس نے تو پرچہ درج کرنا نہیں''۔

اعظم سواتی نے چیف جسٹس کی جانب سے ان کے امریکا میں انٹری بند ہونے سے متعلق استفسار پر بتایا کہ ''امریکی شہریت چھوڑ چکا ہوں۔ امریکا جانے پر کوئی پابندی نہیں۔ ویزے کے لئے اپلائی کیا ہوا ہے۔ امریکا میں وسیع کاروبار ہے جو ظاہر کر چکا ہوں''۔

اعظم سواتی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ''امریکا سے سب سے زیادہ زرمبادلہ اعظم سواتی لائے ہیں۔ اعظم سواتی خود پر لگے دھبے صاف کروانا چاہتے ہیں''۔

عدالتی معاون فیصل صدیقی نے بتایا کہ جے آئی ٹی کے مطابق، آئی جی کا تبادلہ اعظم سواتی نے نہیں کروایا۔ لیکن، واقعاتی شہادت سے لگتا ہے آئی جی کا تبادلہ اعظم سواتی کی شکایت پر ہوا''۔

چیف جسٹس نے اعظم سواتی کا معاملہ متعلقہ اداروں کو بھجوانے کا حکم دے دیا اور کہا کہ ادارے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں دیں گے۔ مزید تفصیلات عدالتی حکم میں جاری کریں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما، اعظم سواتی نے اپنے فارم ہاؤس کے قریب کچی آبادی کے ایک مکینوں کی گائے اپنے فارم میں آنے پر ان کی گھر کی خواتین سمیت مردوں کو مقدمہ درج کروا کرکے جیل بھجوا دیا تھا۔ اس دوران آئی جی اسلام آباد کو ان کا فون نہ سننے کی پاداش میں گھر بھجوا دیا گیا تھا۔ تاہم، معاملہ میڈیا میں آنے پر عدالت نے ازخود نوٹس لیا اور کارروائی کی، جس کے بعد اعظم سواتی کو اپنی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا اور اب ان کے خلاف پولیس، ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں کو کارروائی کا حکم دیدیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG