رسائی کے لنکس

logo-print

’حراستی مراکز‘ میں ایک ہزار افراد موجود ہیں، اٹارنی جنرل


پاکستان سپریم کورٹ کے باہر تعینات سیکیورٹی اہل کار۔ فائل فوٹو

سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاٹا فاٹا ایکٹ اور ایکشن ان ایڈ آف سول پاور سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس وقت بھی حراستی مراکز میں ایک ہزار کے قریب افراد موجود ہیں۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ملک کے خلاف سرگرمیوں پر کسی کو بھی غیر معینہ مدت کے لئے حراست میں رکھا جا سکتا ہے جس پر جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ “اس طرح تو کسی کو بھی ملک مخالف سرگرمیوں کا الزام لگا کر غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھا جائے گا”۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ حراستی مراکز کیوں قائم کیے گئے اس پر عدالت کو ایک ویڈیو دکھانا چاہتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ دکھانا چاہتے ہیں زیرحراست لوگ بہت خطرناک ہیں؟ ملک دو دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے۔ عدالت کے سامنے سوال صرف حراستی مراکز کی قانونی حیثیت کا ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فاٹا پاٹا میں دہشت گرد، کالعدم تنظیمیں اور نان سٹیٹ ایکٹرز موجود رہے۔ جس پر جسٹس گلزار نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے ساتھ حراستی مراکز بھی موجود تھے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ کیا 2008 سے آج تک حراستی مراکز کی قانونی حیثیت چیلنج ہوئی؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حراستی مراکز کی قانونی حیثیت سے متعلق یہ پہلا کیس ہے،حراستی مراکز سمیت دیگر نقاط پر نیا قانون بنایا جا رہا ہے۔تین سے چار ماہ میں نیا قانون بن کر نافذ ہو جائے گا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت چار ماہ آئین معطل کر دے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک کے خلاف سرگرمیوں پر غیر معینہ مدت کے لئے حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ اس کیس میں درخواست گزار افراسیاب خٹک کہتے ہیں کہ کسی قانون میں اجازت نہیں کہ کسی کو بغیر کسی عدالت کی اجازت کے غیر معینہ مدت تک قید رکھا جائے۔ قانون کے مطابق 3 ایم پی او کے تحت کسی شخص کو 3 ماہ کے لیے حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ جس میں 8 ماہ تک توسیع ممکن ہے لیکن اس میں بھی شرط ہے کہ باقاعدہ عدالتی احکامات پر ایسا ممکن ہو گا۔ لیکن اس ایکٹ کے تحت فاٹا میں سینکڑوں افراد کو غیر معینہ مدت کے لیے رکھا گیا جو خلاف قانون ہے۔ اسے تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ صدر نے قانون فاٹا میں رائج کیا تھا جو اب ختم ہو چکا۔ فاٹا ختم ہو چکا تو اس میں رائج قانون کیسے برقرار ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ فاٹا میں رائج قانون اب صوبائی قوانین بن چکے۔ میں جو نیا قانون ڈرافٹ کر رہا ہوں اس میں سب کچھ شامل کیا گیا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل کا کام قانون بنانا کب سے ہو گیا؟ قانون بنانے کے لئے وزارت قانون موجود ہے۔

سماعت کے دوران حراست نظرثانی کا معاملہ بھی سامنے آیا اور چیف جسٹس نے کہا کہ 2011 کے قانون میں سقم حراست کا ریویو نہ ہونا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے کہاکہ نئے قانون میں کسی کو حراست میں رکھنے پر نظرثانی کی شق نکال دی گئی ہے،

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایک طرف شہری کے وقار، دوسرا ریاست کی بقاء کا سوال ہے۔ وکیل انعام الرحیم کہتے ہیں کہ اس قانون سے انسانی حقوق کی پامالی کا امکان ہے۔ ان حراستی مراکز میں رکھے جانے والے افراد کے لیے ضروری تھا کہ انہیں حراستی آرڈر دیا جائے جس میں ان پر عائد تمام تر الزامات کی چارج شیٹ موجود ہو گی، لیکن ان ہزاروں افراد کو آج تک کوئی ایسا آرڈر نہیں دیا گیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ایک شخص اگر ایک الزام سے بری ہو بھی جائے تو اسے کسی دوسرے الزام میں اسی حراستی مرکز میں رکھا جاتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے ان حراستی مراکز کے قیام کے حوالے سے عدالت کو ویڈیوز دکھانے کا بھی کہا تاہم وقت کی کمی کے باعث آج ویڈیوز نہیں دکھائی جا سکیں اور کل یہ ویڈیوز عدالت میں پیش کی جائیں گی۔

پس منظر

کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 25 اکتوبر کو خیبرپختونخوا ایکشنز (ان ایڈ آف سول پاورز) آرڈیننس 2019 کو غیر قانونی قرار دینے سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے معاملے پر لارجر بینج تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ نے اپنے 17 اکتوبر کے فیصلے میں سابق قبائلی علاقوں (فاٹا اور پاٹا) کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد وہاں حراستی مراکز فعال ہونے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے صوبے کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس کو تین روز کے اندر ان حراستی مراکز کا انتظام سنبھالنے کی ہدایت کی تھی۔

قانون نافذ کرنے والے مختلف اداروں کے زیر انتظام ان حراستی مراکز میں موجود دو قیدیوں کی جانب سے ان کے وکیل ایڈووکیٹ شبیر حسین گگیانی نے کے پی ایکشن آرڈیننس 2019۔ کے پی (سابق فاٹا) میں جاری قوانین ایکٹ 2019 اور کے پی (سابق پاٹا) میں جاری قوانین ایکٹ 2018 کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

درخواست میں انہوں نے استدعا کی تھی کہ 2011 کے قواعد و ضوابط کے تحت قائم کردہ تمام حراستی مراکز کو غیر آئینی قرار دیا جائے اور قانون کے مطابق مقدمہ چلانے کے لیے تمام قیدیوں کو متعلقہ عدالتوں کے حوالے کیا جائے۔

ان کا موقف تھا کہ آئین میں کی گئی 25 ویں ترمیم کے بعد سے قبائلی اضلاع کے عوام کے ساتھ ملک اور صوبے کے دیگر عوام سے مختلف رویہ نہیں رکھا جا سکتا۔

20 جولائی 2011 کو صوبائی وزیر داخلہ نے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت ایسے 9 مراکز جہاں ہزاروں کی تعداد میں مشتبہ عسکریت پسندوں کو قید کیا گیا تھا۔ صوبے کے زیر انتظام حراستی مراکز قرار پائے تھے۔

اسی قسم کا ایک حکم نامہ 12 اگست 2011 کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا نے جاری کیا تھا جس کے تحت تقریباً 34 حراستی مراکز نوٹیفائی کیے گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG