رسائی کے لنکس

logo-print

قرض معاف کروانے والے 222 افراد کو نوٹسز جاری


پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے اربوں روپے کے قرضے معاف کروانے والے افراد اور کمپنیوں کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے آٹھ جون کو پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

2007ء میں اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے مقامی بینکوں سے اربوں روپے کے قرض لے کر پھر سیاسی یا دیگر دباؤ کے تحت انھیں معاف کروانے کی اطلاعات کا از خود نوٹس لیا تھا۔

بعد ازاں ایک سابق جج کی سربراہی میں کمیشن قائم کر کے اس کی چھان بین بھی شروع کی گئی تھی۔

موجودہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے گزشتہ ہفتے قرض معاف کروانے والے 222 افراد اور کمپنیوں کو نوٹسز جاری کرنے کا حکم دیا تھا اور عدالت عظمیٰ نے جمعہ کو یہ نوٹسز جاری کیے۔

کمیشن نے بتایا تھا کہ ان 222 افراد اور کمپنیوں کے ذمے تقریباً 12 ارب روپے کا قرض واجب الادا اور اگر بینک کی شرح سود کے تناسب کو بھی شامل کیا جائے تو ان کے ذمے مزید ساڑھے 23 ارب روپے واجب الادا بنتے ہیں۔

کمیشن نے کہا تھا کہ مجموعی طور پر قرض معاف کروانے کے 600 سے زائد مقدمات میں 84 ارب روپے کے قرضے معاف ہوئے۔

سینیئر قانون دان اکرام چودھری کہتے ہیں کہ گو کہ اس طرح کے مقدمات میں رقوم کی واپسی کی کوئی بڑی نظری نہیں ملتی لیکن اگر سنجیدگی سے اس مقدمے کو لے کر چلا جائے تو نتیجہ خیز پیش رفت ہو سکتی ہے۔

ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد جن کی جائیدادیں پاکستان میں ہیں ان کے خلاف کارروائی کی گنجائش قانون میں موجود ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ وہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت ضرور واپس لیں گے چاہے اس کے لیے انھیں ان افراد کی جائیدادیں اور کمپنیوں کے اثاثے ہی کیوں نہ ضبط کرنے کی ہدایت کرنی پڑے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG