رسائی کے لنکس

logo-print

چیف الیکشن کمشنر کی تقرری،حکومت کو مزید مہلت دینے سے انکار


اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ علاج کی غرض سے بیرون ملک ہیں اس لیے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سے متعلق اُن کی وزیر اعظم کے ساتھ مشاورت نہیں ہو سکی ہے۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے مزید مہلت دینے سے متعلق حکومت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مقامی حکومتوں کے انتخاب کے التوا سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مقررہ مدت میں چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کر سکی۔

پیر کو جب مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ کی طرف سے درخواست کی کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے ڈیڈ لائن میں توسیع کر دی جائے۔

اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ علاج کی غرض سے بیرون ملک ہیں اس لیے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سے متعلق اُن کی وزیر اعظم کے ساتھ مشاورت نہیں ہو سکی ہے۔

چیف جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ اس بار ے میں مشاورت فون پر بھی ہو سکتی ہے۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ مقدمے آئندہ سماعت پر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سے متعلق دی گئی مہلت کے اندر فیصلہ نا کرنے پر وزیراعظم نواز شریف اور خورشید شاہ کو اس بارے میں نوٹس جاری کیے جائیں گے۔

اس سے پہلے عدالت عظمیٰ نے حکومت کو 24 نومبر سے پہلے چیف الیکشن کمشنر کو مقرر کرنے کے لیے کہا تھا۔

واضح رہے کہ مستقل چیف الیکشن کمشنر نا ہونے کی وجہ سے آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے سینیئر حاضر جج اس آئینی عہدے پر اضافی ذمہ داریاں نبھاتے چلے آ رہے ہیں، جس سے عدالت کے مطابق عدالتی امور بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

آئین کے مطابق وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی ہونی ہے۔

گزشتہ سال جولائی میں فخر الدین جی ابراہیم نے بطور چیف الیکشن کمشنر کے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس وقت اس عہدے پر مستقل چیف الیکشن کمشنر کا تقرر نہیں ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG