رسائی کے لنکس

اسپتالوں کی خراب صورتِ حال پر سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس


لوگ ایک مریضہ کو کراچی کے سرکاری ہسپتال لیجا رہے ہیں۔ فائل فوٹو

ازخود نوٹس کیس میں شہر بھر میں سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف کی کل تعداد بھی فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کی خراب حالت کا نوٹس لینے کے بعد ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے سرکاری ہسپتالوں سے متعلق بھی رپوٹ طلب کرلی ہے۔

اعلیٰ عدالت نے متعلقہ اداروں اور میڈیکل سپرنٹنڈٹس سے اس بارے میں تفصیلی رپوٹ طلب کرتے ہوئے انہیں ذاتی حیثیت سے پیش ہونے کا بھی حکم دیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ یہ بتایا جائے کہ ان ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز، آکسیجن، انکیوبیٹرز، انجیوگرافی مشینز، سی ٹی اسکین، ایم آر آئی مشینز اور ایمبولینسز کی کتنی تعداد موجود ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں جان بچانے والی ادویات کی فراہمی اور مفت دوائیں فراہم کرنے سے متعلق بھی رپوٹ طلب کی ہے۔

ازخود نوٹس کیس میں شہر بھر میں سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف کی کل تعداد بھی فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ بھر کے پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں داخلوں کے معاملے پر بھی ازخود نوٹس لے لیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ محکموں کے حکام سے رپوٹ طلب کرنے کے علاوہ تمام کالجز کے سی ای اوز کو بھی ذاتی حیثیت سے طلب کرلیا ہے۔

ان دونوں کیسز کی سماعت 13 جنوری بروز ہفتہ سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں ہوگی۔

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں صحت کے بے تحاشہ مسائل ہیں لیکن سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کی کمی اور مریضوں کی تعداد بے حد زیادہ ہے۔ شہر میں پرائیویٹ ہسپتالوں کی کثیر تعداد تو موجود ہے لیکن وہاں علاج کرانا غریب آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور ہے۔

اسی طرح صوبے میں حال ہی میں میڈیکل کالجز میں داخلوں کے معاملے میں شفافیت پر حال ہی میں کئی سوالات اٹھے ہیں جبکہ پرائیوٹ کالجز میں فیسوں کی بھرمار کے باعث داخلہ ملنا بے حد مشکل ہوچکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG