رسائی کے لنکس

logo-print

'آبی ذخائر کی تعمیر کے لیے سپریم کورٹ کردار ادا کرے گی'


فائل فوٹو

پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پانی کی قلت کے خاتمے اور آبی ذخائر کی تعمیر میں اب سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرے گی۔

ہفتہ کو کراچی میں سپریم کورٹ رجسٹری میں کالا باغ ڈیم سے متعلق ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ماہرین اور قانون دانوں سے اس ضمن میں مشاورت کی جائے گی۔

اس موقع پر پانی و بجلی کے ادارے 'واپڈا' کے سابق چیئرمین ظفر محمود نے بینچ کو بتایا کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے بارے میں لوگوں کو مکمل آگاہی نہیں اور اس پر تناع کے بعد ہی انھوں نے اس ادارے کی سربراہی سے استعفیٰ دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے ملک میں سیلاب آنا شروع ہو گئے ہیں، زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے اور کوئٹہ میں پانی اتنا نیچے جا چکا ہے کہ بحالی میں 200 سال لگیں گے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دس سال بعد کوئٹہ میں پینے کا پانی نہیں ہوگا یعنی لوگوں کو کوئٹہ سے ہجرت کرنا پڑے گی۔

بینچ میں شامل جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ 80 کی دہائی میں سنا جاتا تھا کہ کالا باغ ڈیم پر تنازع ہے تو جو متنازع نہیں حکومتیں کم از کم وہ ڈیمز تو بنا دیتیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس وقت ہم کالاباغ ڈیم کی بحث میں نہیں پڑیں گے اور اس کا متبادل تلاش کرنے کی کوششیں کریں گے تا کہ یہ دیکھا جائے کہ پانی کی قلت کو کیسے ختم کیا جائے۔

پاکستان میں آبی قلت کے تناظر میں ان دنوں سوشل میڈیا پر بھی خوب بحث جاری ہے اور لوگ آبی ذخائر کی تعمیر کے لیے شدومد سے آواز بلند کرتے نظر آتے ہیں۔

توانائی کے امور کے ماہر ڈاکٹر عابد سلہری کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی طرف سے معاملے پر توجہ دیے جانے سے اچھی پیش رفت کی توقع کی جا سکتی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ "سپریم کورٹ ہدایات دے سکتی ہے منصوبوں کی رپورٹ طلب کر سکتی ہے اس کے لیے زمین کے حصول کے بارے میں دریافت کر سکتی ہے تو جب عدالت عظمیٰ اس بارے میں جواب طلب کرے گی تو پھر ان معاملات میں تھوڑی تیزی آ جاتی ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں حکومتیں آبی ذخائر کو صرف توانائی کی پیداوار کے تناظر میں دیکھتی رہی ہیں لیکن اب معاملہ پانی کی قلت ہے اور اس کے لیے آبی ذخائر کی تعمیر انتہائی ضروری ہو گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG