رسائی کے لنکس

logo-print

مانسہرہ: انسداد پولیو ٹیم پر حملے میں ملوث 'شدت پسند' گرفتار


ادھر قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں جمعہ کو پاکستان کے لڑاکا طیاروں نے بمباری کر کے 21 مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کردیا۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختوںخواہ کی پولیس نے رواں سال شمالی ضلع مانسہرہ میں انسداد پولیو کی ٹیم پر ہلاکت خیز حملہ کرنے والے ایک مشتبہ شدت پسند کو گرفتار کرنے کا بتایا ہے۔

حکام نے بقول سراج عرف امیر صاحب نامی مشتبہ شدت پسند کو جمعہ کو مانسہرہ کے گاؤں ٹنڈا سے گرفتار کیا گیا اور اس کا تعلق مبینہ طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔

پولیس نے دعویٰ کیا کہ سراج نے دوران تفتیش اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر بچوں کو انسداد پولیو کی ویکسین پلانے والی ٹیم پر فائرنگ کی تھی۔

اس حملے میں دو خواتین رضاکار اور ان کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

گزشتہ تین سالوں سے ملک کے مختلف علاقوں میں انسداد پولیو کی ٹیموں پر ہلاکت خیز حملے ہوتے رہے ہیں جن میں نہ صرف درجنوں افراد ہلاک ہوئے بلکہ انسانی جسم کو مفلوج کردینے والی بیماری پولیو کے وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کی کوششیں بھی شدید متاثر ہوئیں۔

تاہم شدت پسندوں کے خلاف گزشتہ سال شروع کی گئی بھرپور کارروائیوں کے بعد نہ صرف ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال میں بہتری آئی بلکہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم کا تسلسل بھی بحال ہوا جس کے خاطر خواہ نتائج کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رواں سال اب تک ملک بھر سے صرف 43 پولیو کیس رپورٹ ہوئے جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد تین سو سے زائد تھی۔

ادھر اطلاعات کے مطابق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں جمعہ کو پاکستان کے لڑاکا طیاروں نے بمباری کر کے کم از کم 15 مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کردیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی دورافتادہ وادی تیراہ میں کی گئی۔ لیکن اس علاقے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

ملک سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں اور پاکستانی کی سیاسی و عسکری قیادت اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ آخری دہشت گرد کی موجودگی تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

جمعہ کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں سے ملک میں امن و امان بحال ہوا ہے لیکن دیرپا استحکام کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا ہو گا۔

صدر کا کہنا تھا کہ امن و امان کی بہتری کے علاوہ اب ملک کو معاشی استحکام کی طرف بھی بڑھنا ہے جس کے لیے ان کے بقول چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی تکمیل کے لیے بھی عوام حکومت کے ساتھ تعاون کرے۔

XS
SM
MD
LG