رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کے خلاف پاک فوج کی کامیابیوں پر امریکی عہدے دار کا شک


امریکہ کی فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ نے کہا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستان کی فوجی کارروائیاں افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی فوجوں کے لیے طالبان کے خطرے کو کم کرنے میں کس قدر کامیاب ہوئى ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل رونالڈ برجس نے وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فوج نے اپنی بعض کارروائیوں میں اگرچہ اچھی خاصی کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے طالبان جنگ جوؤں کو ہلاک یا گرفتار کیا گیا۔

پاکستان کی فوج نے جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں طالبان کے ایک بڑے اور محفوظ ٹھکانے کے خلاف اکتوبر میں زمینی حملے شروع کیے تھے۔ امریکی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ اس علاقے سے جنگجو ایک معمول کے مطابق سرحد کے اُس پار حملے کرتے رہتے ہیں۔

جنرل برجس نے کہا ہے کہ اس علاقے سے کچھ جنگ جو ہوسکتا ہے کہ فرار ہوکر عارضی طور پر دیہی علاقوں میں چلے گئے ہوں اور یہ لوگ اب بھی دوبارہ یک جا اور منظم ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطرے کو ختم کرنے کے لیے لازماً ان عناصر کا صفایا کیا جانا چاہئیے۔

جنرل سے ان الزامات کے بارے میں بھی سوال کیا گیا تھا کہ پاکستانی انٹیلی جینس کی ایجنسیاں افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثرو نفوذ کو ناکام بنانے کی وسیع تر حکمت عملی کے تحت بدستور طالبان کی مدد کر رہی ہیں۔ پاکستان اس الزام کی شدّومد سے تردید کرتا ہے۔

جنرل بَرجس نے کہا ہے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور جنگ جوؤں کے درمیان سرکاری طور پر کوئى تعلق نہیں ہے۔ لیکن ہوسکتا ہے کہ نچلی سطح کے افسر با ضابطہ اجازت کے بغیر ہی جنگ جو گروپوں کی مدد کر رہے ہوں۔

امریکی انٹیلی جینس کے چوٹی کے عہدے دار نے یہ بھی کہا ہے وہ اس بار افغانستان میں موسمِ سرما کے دوران روایتی طور پر جنگ کے دھیما پڑ جانے کی توقع نہیں رکھتے۔ جنرل برگَیس نے کہا کہ کمانڈروں کو گذشتہ موسمِ سرما سے زیادہ لڑائیوں اور جانی نقصان کا خدشہ ہے، تاہم یہ لڑائیاں اس قدر شدید نہیں ہوں گی جتنی گرمی کے موسم میں ہوتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG