رسائی کے لنکس

logo-print

’بچیاں پڑھیں گی اور کوہ پیمائی میں بھی نام روشن کریں گی’


’میرا تو دل چاہتا ہے کہ ابھی کے ٹو سر کر لوں ‘یہ کہنا ہے پاکستانی نژاد آمنہ حنیف کا جنھیں بلندیوں سے خوف نہیں آتا ہے۔

سکردو سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ آمنہ اور 15سالہ صدیقہ اسپین کی بلند ترین چوٹی ٹیڈیے سر کرنے والی سب سے کم عمر کوہ پیما ہیں۔ کوہ پیمائی کا یہ مقابلہ مئی کے مہینے میں ہوا جس میں چودہ ممالک سے تعلق رکھنے والی کوہ پیماؤں نے حصہ لیا۔

آمنہ حنیف اور ان کی چچا زاد بہن صدیقہ بتول سکردو سے بھی آگے واقع ہشہ نامی گاؤں کی رہنے والی ہیں۔ ان نو عمر لڑکیوں کا پہاڑ سر کرنے سے پرانا اور گہرا تعلق ہے۔ آمنہ کے والد اور ٹرینر محمد حنیف جو خود بھی کلائمبر ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ یہ شوق بچیوں کو ان کے دادا عبد الکریم جن کی عرفیت ’لٹل کریم‘ تھی، سے ورثے میں ملا تھا۔

’’مجھے تو پہاڑوں پر چڑھنا اور انہیں سر کرنا اس لیے زیادہ پسند ہے کیونکہ میرے دادا بھی ایک جانے مانے کوہ پیما تھے، میں نے تو بچپن سے ہی ان کے بارے میں سنا اور ان پر بنی ڈاکیومنٹریز دیکھی ہیں‘۔ صدیقہ بتول نے بتایا۔

ماؤنٹ ٹیڈیے کی اونچائی 3718 میٹر ہے جو کہ اسپین کی سب سے بلند چوٹی ہے۔ آمنہ کا کہنا تھا کہ بتیس کلو میٹر کا یہ سفر بالکل بھی آسان نہیں تھا اور وہ یہ چوٹی سر کرنے میں صرف اس لیے کامیاب ہوئیں کیونکہ وہ پاکستان میں کئی سال سے اس کے لئے باقائدہ ٹریننگ لیتی رہی ہیں۔

اُن کے والد کا کہنا ہے کہ ’میرے لیے اپنے اور اپنی بچیوں کے شوق سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے، لوگ مجھے کہتے بھی تھے کہ تم یہ کیا کر رہے ہو، میں نے کسی کی نہیں سنی، کوہ پیمائی کی تربیت دینے پر کافی رقم خرچ ہوتی ہے، میں نے اس کے لیے اپنا مکان تک بیچ دیا مگر مجھے کوئی افسوس نہیں ہے اس بات کا‘‘۔

آمنہ اور صدیقہ سے جب پوچھا گیا کہ دنیا بھر سے تو کوہ پیمائی کے لیے لوگ پاکستان آتے ہیں تو آپ نے یہاں سے اس کا آغاز کیوں نہیں کیا؟ جس پر دونوں نے بتایا کہ اکثر افراد اُن سے یہ سوال کرتے ہیں لیکن بہت کم افراد یہ بات جانتے ہیں کہ وہ اسپین جانے سے ایک برس پہلے ہی پاکستان میں منگلیسر نامی چوٹی سر کر چکی ہیں جس کی بلندی 6080 میٹر ہے۔

آمنہ کا کہنا ہے کہ ’بہت سے لڑکیاں ہمیں کہتی ہیں کہ ہم بھی آپ کی طرح پہاڑوں کو سر کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے، ہمیں خوشی ہے کہ ہماری وجہ سے ایسا سوچ رہی ہیں لیکن زیادہ تر خاندان اپنی بچیوں کو ایسی مہم جوئی کی اجازت نہیں دیتے۔‘

اس کے خاندان کے افراد نے ان دونوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ ان دونوں لڑکیوں کے ٹرینر نے کہا کہ بچیوں کو یورپ لے جانے کا اصل مقصد یہ تھا کہ ان کی بہتر ٹریننگ کی جا سکے کیونکہ مقامی طور پر ان سہولیات کا فقدان ہے۔

صدیقہ جو کہ اسکول کی طالبہ ہے بڑی ہو کر ڈاکٹر بننا چاہتی ہے جب کہ سیکنڈ ایئر میں زیر تعلیم آمنہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتی ہیں تا کہ سائیکولوجسٹ بن سکیں۔

’میری بچیاں پڑھیں گی، ضرور پڑھیں گی اور کوہ پیمائی میں اپنا نام بھی روشن کریں گی’ محمد حنیف نے کہا۔

نو عمر کوہ پیماؤں کو جہاں ملکی سطح پر سراہا گیا وہاں بین الاقوامی پذیرائی بھی ملی لیکن ان کا ارادہ اب یورپ نہیں بلکہ پاکستان کی پانچ مشہور چوٹیاں سر کرنے کا ہے۔

’ماونٹ ٹیڈیے پہنچے تو ہم نے نیچا دیکھا ایسا لگتا تھا بس ہم ہی ہم ہیں اور ساری دنیا بالکل کھلونوں کی طرح چھوٹی ہے‘ آمنہ نے خوش ہوتے ہوئے بتایا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اونچائی سے ذرا بھی نہیں ڈرتیں بلکہ انھیں اس بات پر ہنسی آتی ہے کہ کوئی بھی ایسا کام ہے جو لڑکیوں کے لیے کرنا نا ممکن ہے۔

’بس ایک دن، بہت جلد سب سے اونچی چوٹی سر کروں گی‘ صدیقہ نے اںٹرویو ختم کرتے ہوئے کہا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG