رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا: سرتاج عزیز


کانفرنس کے مندوبین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے چیلنجوں کا مقابلہ باہمی طور پر تینوں ممالک کے مابین قریبی تعلقات سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان نے کہا کہ وہ اپنی سرزمین افغانستان سمیت کسی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے یہ بات پاکستان، افغانستان اور چین کی سہ فریقی کانفرنس کے اختتام پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہی۔

اُنھوں نے کہا کہ سرحد پر نگرانی کے موثر نظام ہی سے اس مقصد کا حصول ممکن ہے۔

’’پاکستان اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور افغانستان کا بھی یہ ہی ارادہ ہے۔ یہ کام سرحد کی نگرانی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔‘‘

سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے بہت مواقع ہیں۔

اُدھر اسلام آباد میں پاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ اور ایک جرمن غیر سرکاری ادارے (کے اے ایس) کے زیر اہتمام دو روزہ سہ فریقی کانفرنس میں سلامتی کے چینلجوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ علاقائی کوششوں پر زور دیا گیا۔

پاکستان، افغانستان اور چین کی سہ فریقی کانفرنس سے خطاب میں افغان سفیر جاناں موسیٰ زئی کا کہنا تھا کہ اُن کے ملک میں حالات تبدیل ہو رہے ہیں اور اب وہاں منتخب حکومت، عدلیہ، فوج اور سول سوسائٹی متحرک طور پر کام کر رہی ہے۔

کانفرنس کے مندوبین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے چیلنجوں کا مقابلہ باہمی طور پر تینوں ممالک کے مابین قریبی تعلقات سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ سرتاج عزیز نے اتوار کو افغانستان کا دورہ کر کے صدر اشرف غنی کو وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے دورہ پاکستان کی دعوت دی تھی۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کی کوششوں کی مکمل حمایت اور مدد جاری رکھے گا۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ وہ بہت جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔

XS
SM
MD
LG