رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گرد ہتھیار پھینک کر تشدد کا راستہ ترک کردیں


وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک

امن وامان کی صورت حال میں بہتری کے لیے ایک بار پھر وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے جمعہ کو سرکاری ٹی وی چینل سے گفتگو میں مقامی طالبان جنگجوؤں سے کہا ہے کہ وہ ہتھیار پھینک کر تشدد کی راہ ترک کر دیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ملک کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی اور انتہا پسندوں کی پرتشد د سرگرمیوں کے باعث ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

اس سے قبل بھی حکومت دہشت گردوں سے یہ کہہ چکی ہے کہ وہ ہتھیار پھینک کر ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیں لیکن اس کے باوجود شدت پسندوں کی کارروائیوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے ۔ وادی سوات میں بھی فوجی کارروائی سے قبل مقامی جنگجوؤں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا گیا تھا لیکن وہ بھی ناکام رہا ۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود شد ت پسند نہ صرف صوبہ خیبر پختون خواہ سے ملحقہ علاقوں بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں سکیورٹی اہلکاروں اور سرکاری تنصیبات کے علاوہ عوامی مقامات پر دہشت گرد حملے کرتے آئے ہیں ۔ ان عناصر کے خلاف سکیورٹی فورسز اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور صرف اورکزئی ایجنسی میں حالیہ مہینوں میں ساڑھے چھ سو سے زائد عسکریت پسندوں کو مارنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی اور اُن کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باعث اب بھی ان علاقوں کے ہزاروں خاندان نقل مکانی کر کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے ملحقہ شہری علاقوں میں رہنے پر مجبو ر ہیں۔ سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے مقامی آبادی کی نقل مکانی اور شدت پسندوں کی کارروائیوں کے باعث قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کام بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں انتہاپسند رجحانات میں کمی اور مقامی آبادی کو روزگار مہیا کرنے کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنا چاہتی ہے لیکن اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ شدت پسندوں کی کارروائیاں ہیں۔ امریکہ کی طرف سے ملک کے ان قبائلی علاقوں میں روزگار کے وسائل مہیا کرنے کے لیے خصوصی صنعتی مراکز یعنی ری کنسٹرکشن آپرچیونیٹی ژونز بنانے کا قانون بھی زیر غور ہے۔

XS
SM
MD
LG