رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی گئی: اعزاز چوہدری


سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن و مصالحت کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جا رہی ہے اور اُن کے بقول پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششیں دنیا کے سامنے ہیں۔

بدھ کی شام اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران جب اعزاز احمد چوہدری سے پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنھوں نے کہا کہ ’’پاکستان نے پہلے ہی شمالی وزیرستان اور دیگر علاقوں میں موجود تمام دہشت گردوں کے خلاف تمام ضروری کارروائی کی ہے۔‘‘

اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں میں کسی طرح کی تفریق نہیں کرتا۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں افغان صدر اشرف غنی نے اپنے ملک کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں پاکستان سے کہا تھا کہ وہ اپنے ہاں موجود اُن افغان طالبان کے خلاف کارروائی کرے جو مذاکرات سے انکاری ہیں۔

صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ افغان طالبان پاکستانی شہروں پشاور اور کوئٹہ میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور پاکستان اُن کے خلاف کارروائی کرے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک حملے میں 70 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

افغان عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ طالبان کے حقانی نیٹ ورک کی کارروائی تھی۔

باور کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دیگر دہشت گردوں کے علاوہ حقانی نیٹ ورک بھی موجود تھا۔

تاہم جون 2015ء میں اس علاقے میں ’ضرب عضب‘ کے نام سے ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کیا گیا اور حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے بیشتر حصے کو دہشت گردوں سے صاف کروایا جا چکا ہے۔

افغان میں امن کی کوششوں کے بارے میں سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن و مصالحت کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

’’افغانستان میں ہم امن دیکھنا چاہتا ہیں اور اُس کی پوری کوشش اور سعی جاری ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG