رسائی کے لنکس

logo-print

صدر کا انتخاب منگل کو، عارف علوی کے منتخب ہونے کا امکان


منصب صدارت کے اُمیدوار عارف علوی، اعزاز احسن اور مولانا فضل الرحمان

پاکستان میں صدر کے اتتخاب کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور طے شدہ پروگرام کے تحت یہ انتخاب منگل کے روز ہو گا۔ صدارتی دوڑ میں پی ٹی آئی کے عارف علوی، پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمان شامل ہیں۔

اس انتخاب کے طریقہ کار کے مطابق پاکستان کی چاروں صوبائی اسمبلیاں، قومی اسمبلی اور سنیٹ مل کر الیکٹورل کالج تشکیل کرتے ہیں۔ اس الیکٹورل کالج میں کل ووٹوں کی تعداد 706 ہے۔ تاہم دستیاب ووٹ 679 ہیں۔ یوں صدر منتخب ہونے کیلئے کسی اُمیدوار کیلئے نصف سے زائد یعنی 340 ووٹ درکار ہوں گے۔

پارٹی پوزیشن کے مطابق اس وقت الیکٹورل کالج میں پاکستان تحریک انصاف کے ووٹوں کی تعداد 251 بنتی ہے۔ تاہم اتحادی جماعتوں کے ووٹ شامل کر کے پی ٹی آئی کے اُمیدوار کیلئے ووٹوں کی تعداد 335 تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یوں وہ کامیابی کیلئے درکار ووٹوں کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ نون کے کل ووٹ 144 ہیں اور اتحادیوں کے ووٹ جمع کر کے یہ تعداد زیادہ سے زیادہ 211 تک پہنچ سکتی ہے جو کامیابی کیلئے درکار ووٹوں سے کہیں کم ہے۔ اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے ووٹوں کی تعداد 116 ہے۔ اسے اتحادیوں سے مزید 20 کے لگ بھگ ووٹ مل سکتے ہیں۔ یوں پیپلز پارٹی بھی اس صدارتی دوڑ میں کافی پیچھے ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کرتی رہیں کہ وہ اپنے اُمیدوار کی دستبردار ی کر اعلان کر کے اُن کے اُمیدوار کو اپوزیشن کا مشترکہ اُمیدوار تسلیم کر لے لیکن اس پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ اس کوشش میں دونوں جماعتوں کے اُمیدواروں کی طرف سے کچھ دلچسپ مکالمے بھی سامنے آئے۔ مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی کے اُمیدوار بیرسٹر اعتزاز احسن کے حوالے سے کہا کہ ایک ایسا دولہا جو ساری دنیا کیلئے ناقابل قبول ہے، اُس پر اس قدر اصرار کیوں ہے۔ اُنہوں نے خود اپنے بارے میں کہا کہ ایک ایسا دولہا جو بہت سی جماعتوں کا مشترکہ اُمیدوار ہو، اُس کی حمایت سے گریز کیوں کیا جائے۔ تاہم پیپلز پارٹی کے کچھ کارکنوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ نون سے اعتزاز احسن کی حمایت حاصل کرنے کیلئے ثالث مقرر کیا تھا لیکن وہ خود سر پر سہرا سجا کر آ گئے۔

اس انتخاب میں ووٹنگ کیلئے چاروں صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور سنیٹ میں پولنگ سٹیشن قائم کر دئے گئے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان خود ریٹرننگ افسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

پاکستان کے موجودہ صدر ممنون حسین کی میعاد 8 ستمبر کو ختم ہو رہی ہے۔ یوں امکان ہے کہ موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کے اُمیدوار عارف علوی آسانی سے یہ انتخاب جیت پر ملک کے نئے صدر کا حلف اُٹھائیں گے۔

پاکستان میں صدر کا منصب وفاق کی علامت ہوتا ہے۔ تاہم موجودہ آئین کے تحت صدر کے اختیارات خاصی حد تک محدود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG