رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان انسدادِ دہشت گردی پر اسپیکرز کانفرنس کی میزبانی کرے گا


پاکستان کی قومی اسمبلی ایک کانفرنس منعقدہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جس میں افغانستان، ایران، چین، روس اور ترکی کی پارلیمان کے اسپیکر شرکت کریں گے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کہا ہے کہ اُن کا ملک اس بات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے کہ خطے میں دہشت گردی پر کس طرح پر قابو پایا جائے۔

بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے رواں سال دسمبر میں پاکستان کی قومی اسمبلی ایک کانفرنس منعقدہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جس میں افغانستان، ایران، چین، روس اور ترکی کی پارلیمان کے اسپیکر شرکت کریں گے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی کے اعلان کے بعد پاکستان کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

اس سلسلے میں پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے ایران، چین اور ترکی کے دورے بھی کیے ہیں جن میں دیگر اُمور کے علاوہ دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے پر بھی بات چیت کی گئی۔

اُدھر پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے چین میں ہونے والی انٹر پول جنرل اسمبلی کے 86 ویں اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ چار سال کے دوران دہشت گردی کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان علاقائی اور عالمی سطح پر امن و سلامتی کے لیے تعاون کا عزم کیے ہوئے ہے اور اُن کے بقول دہشت گردی، سائبر کرائم، منشیات کی تجارت اور انسانی سمگلنگ سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔

انٹر پول جنرل اسمبلی کا افتتاح چین کے صدر شی جن پنگ نے کیا تھا جس میں 100 سے زائد ممالک کے وفود شریک ہیں جن میں سے 40 کی سربراہی ان ملکوں کے وزرا کر رہے ہیں۔

انٹرپول جنرل اسمبلی 29 ستمبر تک جاری رہے گی اور اس میں عالمی سلامتی، انسداد دہشت گردی اور منظم جرائم سمیت مختلف اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

احسن اقبال نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر عالمی نیٹ ورکس قائم کر رہے ہیں جس سے نمٹنے کے لیے جرائم سے لڑنے والی تنظیموں کے مابین تعاون اور مضبوط عالمی نیٹ ورک کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG