رسائی کے لنکس

logo-print

چین میں پہلی کرونا ویکسین کی منظوری، پاکستان 12 لاکھ خوراکیں خریدے گا


چین نے سرکاری طور پر ویکسین کے استعمال کی منظوری امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے بعد دی ہے۔

چین نے عوامی سطح پر استعمال کے لیے پہلی کرونا وائرس ویکسین کی منظوری دے دی ہے جو سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والی دوا ساز کمپنی 'سائنو فارم' نے تیار کی ہے۔

حکومتِ پاکستان نے بھی مذکورہ ویکسین کی 12 لاکھ خوراکیں خریدنے کا آرڈر دے دیا ہے۔

پاکستان کے وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے جمعرات کو ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ کابینہ کمیٹی نے ابتدائی طور پر 'سائنو فارم' سے ویکسین کی 12 لاکھ خوراکیں حاصل کرنے کی منظوری دی ہے جو 2021 کی پہلی سہ ماہی تک طبی ورکرز اور دیگر فرنٹ لائن کارکنوں کو ترجیحاً لگائی جائے گی۔

فواد حسین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نجی شعبہ اگر کوئی اور بین الاقوامی طور پر منظور شدہ ویکسین درآمد کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کی بھی اجازت ہو گی۔

پاکستان نے رواں ماہ کے اوائل میں کرونا ویکسین کی خریداری کے لیے 15 کروڑ ڈالرز مختص کیے تھے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق چینی کمپنی کی تیار کردہ ویکسین کے مؤثر ہونے سے متعلق کوئی معلومات عوام کے لیے جاری نہیں کی گئیں۔

تاہم سائنو فارم کے ایک یونٹ بیجنگ بائیولوجیکل پروڈکٹس انسٹی ٹیوٹ نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ عبوری ڈیٹا کے مطابق ان کی تیارکردہ ویکسین لوگوں کو بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے 79 فی صد تک مؤثر ہے۔

ویکسین کی منظوری کا اعلان چین کے نیشنل میڈیکل پروڈکٹس ایڈمنسٹریشن نے کیا۔

چین نے یورپ اور امریکہ کے علاوہ بعض دیگر ممالک کے برعکس سرکاری طور پر ویکسین کے استعمال کی تاحال منظوری نہیں دی تھی۔ تاہم جولائی میں لازمی سروس ورکرز اور زیادہ خطرات سے دوچار افراد کے لیے ہنگامی طور پر تین ویکسینز کی خوراکیں لگانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔ نومبر کے آخر تک حکام کے مطابق 15 لاکھ سے زائد افراد کو ویکسین لگائی گئی۔

چین میں پانچ ویکسینز پر کام ہو رہا ہے جن میں سرکاری طور پر منظور کی گئی 'سائنو فارم' کے علاوہ سائنوویک، سی این بی جی یونٹس، کین سائنو بائیولوجکس اور چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کی تیارکردہ ویکسینز شامل ہیں۔

کرونا وائرس ایک سال قبل چین کے شہر ووہان کی مارکیٹ سے پھیلا تھا جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔

اخبار 'ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ' کی رپورٹ کے مطابق چین فروری میں قمری سال کی تعطیلات سے پہلے ترجیحی بنیادوں پر پانچ کروڑ افراد کی ویکسی نیشن کرے گا۔

چین کے شعبہ صحت کے حکام نے عوام سے ویکسی نیشن مہم میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے کی اپیل کی ہے۔

فواد چوہدری کے بیان کے حوالے سے پاکستان کے وزیرِ اعظم کی کرونا ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹر عطاء الرحمن نے کہا کہ اس بارے میں مزید تفصیلات ابھی میڈیا کو فراہم نہیں کی جا سکتیں۔ تاہم امکان ہے کہ جنوری کے آخر یا فروری کے آغاز میں ویکسین پاکستان آ جائے گی جس کے بعد اس کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہوگا۔

ڈاکٹر عطا الرحمن نے وائس آف امریکہ کے نمائندے عاصم علی رانا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کئی کمپنیوں سے بات چیت جاری ہے۔ اقوام متحدہ اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کی فراہمی کے لیے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز پہلی ترجیح ہوں گے جس کے بعد معمر افراد اور پھر عام افراد کو یہ ویکسین مہیا کی جائے گی۔

کرونا ویکسین کی فراہمی کے حوالے سے پاکستان میڈیکل ایسویسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ کرونا کی وجہ سے متعدد ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے اس ویکسین کی جلد سے جلد فراہمی ڈاکٹرز اور ان کے مریضوں کے لیے بہترین قدم ہے۔

ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ اب تک اس وبا کی وجہ سے 154 ڈاکٹرز اور 27 ہیلتھ ورکرز ہلاک ہو چکے ہیں۔

ملک بھر میں ویکسین کی فراہمی کے حوالے سے این سی او سی کے ذریعے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے اشتراک سے ایک خصوصی آن لائن نیشنل امیونائزیشن مینجمنٹ سسٹم تیار کیا گیا ہے۔

ویکسین ایڈمنسٹریشن سیل تمام ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتالوں اور ریجنل ہیلتھ سینٹرز میں قائم کیے جائیں گے تاکہ ویکسی نیشن کے عمل کو نچلی سطح تک پہنچا جا سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG