رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کا قندوز متاثرین کے لیے امدادی گندم بھیجنے کا اعلان


حالیہ لڑائی کے بعد علاقے سے نقل مکانی کرنے والوں کی قندوز واپسی پر، اُنھیں خوراک کی قلت کا سامنا ہے اور اسی بنا وہاں گندم بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے افغانستان کے شمالی شہر قندوز میں خوراک کی قلت کی خبروں پر وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ گندم سے بھرا ایک جہاز قندوز بھیجنے کے لیے انتظام کرے۔

سرکاری بیان میں کہا گیا کہ حالیہ لڑائی کے بعد علاقے سے نقل مکانی کرنے والوں کی قندوز واپسی پر، اُنھیں خوراک کی قلت کا سامنا ہے اور اسی بنا وہاں گندم بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس اقدام کو پاکستانی حکومت اور عوام کی طرف سے خیر سگالی کے پیغام کے طور پر دیکھا جانا چاہیئے۔

گزشتہ ماہ کے اواخر میں افغان طالبان نے ملک کے ایک شمالی شہر قندوز پر مختلف اطراف سے حملہ کر کے وہاں قبضہ کر لیا تھا۔

لیکن افغان فورسز نے ملک میں تعینات اتحادی افواج کی مدد سے جلد ہی طالبان کو وہاں سے باہر دھکیل کر شہر کا کنٹرول دوبارہ سنھبال لیا تھا۔

طالبان کے حملے کے دوران شہر میں شدید لڑائی بھی ہوئی اور لگ بھگ تین لاکھ آبادی والے افغانستان کے اس شہر سے بڑی تعداد میں لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔

افغان حکومت کا کنٹرول بحال ہونے کے بعد قندوز سے نکلنے والے لوگ واپس آئے ہیں لیکن ایسی خبریں بھی سامنے آئیں کہ اُنھیں خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم نواز شریف امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں دیگر علاقائی اُمور پر بات چیت کے علاوہ افغانستان میں سلامتی کی صورت حال پر بھی وہ امریکی قیادت سے تبادلہ خیال کریں گے۔

تجزیہ کار اے زیڈ ہلالی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اُنھیں توقع ہے کہ ’’خیر سگالی‘‘ کے اس اقدام کے دو طرفہ تعلقات پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

دریں اثنا افغانستان کے جنوبی ضلع لشکر گاہ میں طالبان اور افغان فورسز کے درمیان بدھ کو بھی جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ ایک روز قبل طالبان جنگجوں نے حملہ کر کے اس ضلع کے ایک علاقے پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔

جس کے بعد افغان حکومت نے مزید کمک اس علاقے میں بھیجی ہے۔ اطلاعات کے مطابق لڑائی کے بعد لشکرگاہ سے لوگوں کی محفوظ علاقوں کی جانب منتقلی کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔

اس علاقے میں لڑائی کے بعد قندھار اور ہرات کو ملانے والی ایک سڑک کے تحفظ سے متعلق بھی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

افغانستان میں حالیہ مہینوں میں طالبان کے حملوں میں شدت آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG