رسائی کے لنکس

logo-print

باہمی اختلافات پر گفتگو سے عدم برداشت کا خاتمہ ممکن: ماہرین


بشریٰ گوہر کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے جن باتوں کو بالکل برداشت نہیں کیا جانا چاہیئے ان پر لوگوں کی طرف سے ضبط یا برداشت کا اظہار دیکھنے میں آتا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں اتوار کو برداشت اور رواداری کا عالمی دن منایا گیا جس کا مقصد لوگوں میں تحمل و برداشت کے رویے کو فروغ دے کر معاشرے میں ہم آہنگی کا شعور اجاگر کرنا ہے۔

پاکستان کو گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے دہشت گردی و انتہا پسندی کا سامنا ہے اور ماہرین کے بقول عدم تحفظ کی فضا میں جب لوگ معاشی مسائل کا بھی شکار ہو جائیں تو ایسے میں عدم برداشت کا رویہ زور پکڑتا ہے۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر عصمت لغاری کہتی ہیں کہ جب ملک میں انتشار کی سی فضا پائی جاتی ہے تو پھر یہی انسان کے رویوں میں بھی جھلکتی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا۔

"عدم برداشت میں کیا ہوتا ہے اس میں آپ کا غصہ ہے بے چینی ہے اور انتہائی غصہ ہے جب ہم میں عدم برداشت ہوتی ہے اور ہمارا عدم برادشت کا لیول ختم ہوتا ہے تو ہم کس چیز کا شکار ہوتے ہیں، غصہ، بے چینی اور انتہائی غصہ، یہ اس کا نتیجہ ہے۔"

حالیہ برسوں میں ایسی بہت سی خبریں آئے روز منظر عام پر آتی ہیں کہ کسی معمولی سی بات پر کسی نے کسی کو جان سے مار دیا۔ علاوہ ازیں پاکستان میں مذہبی اقلیتوں اور مختلف مسالک کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک میں بھی قابل ذکر حد تک منفی تاثر سامنے آیا۔

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور سابق رکن قومی اسمبلی بشریٰ گوہر کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے جن باتوں کو بالکل برداشت نہیں کیا جانا چاہیئے ان پر لوگوں کی طرف سے ضبط یا برداشت کا اظہار دیکھنے میں آتا ہے۔

"برداشت دو قسم کی ہوتی ہے، ایک برادشت ہے جو غلط چیز کے لیے جب زیادہ ہو جائے تو تب بھی مسئلہ ہوتا ہے، پاکستان میں جو برداشت کا لیول ہے انتہا پسندی کی طرف سے جو ہمارے کمزور طبقات کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اس کے حوالے سے یا انسانی حقوق کی جو خلاف ورزی ہے لگتا ہے اس کے لیے برداشت بڑھی ہے جب تک ان چیزوں کے خلاف برداشت ختم نہیں ہو گی تو ہم آگے نہیں بڑھ نہیں سکتے ہیں"۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عدم برداشت کے رویے کی جھلک سیاسی رہنماؤں سے لے کر نچلے طبقے تک ہر کسی میں دیکھی جارہی ہے جو کہ ایک خطرناک امر ہے۔

انھوں نے کہا کہ عدم برداشت کو ختم کرنے کے لیے جہاں تعلیمی شعبے میں مکمل اصلاحات کی ضرورت ہے وہیں ملک کے سیاسی اکابرین کو بھی مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا کہ ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے جہاں ایک دوسرے سے اختلافات پر بات چیت کو فروغ دیا جائے۔

"دوسروں کی رائے کا احترام کرنا اور رائے کے اختلاف کو قبول کرنا ، اسی سے معاشرے آگے بڑھتے ہیں۔"

ماہر نفسیات عصمت لغاری کا بھی یہی کہنا تھا کہ اس کے لیے لوگوں کو بنیادی تربیت دی جانی بہت ضروری ہے اور صحت مند معاشرے کی اقدار کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کر کے لوگوں کو اس طرف راغب کیا جائے اور انھیں بتایا جائے کہ برداشت کا رویہ نہ صرف سماج کے لیے بلکہ خود ان کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

XS
SM
MD
LG