رسائی کے لنکس

قبائلی اضلاع میں انتخابات فوج کی زیرِ نگرانی کرانے کا فیصلہ


فائل فوٹو
فائل فوٹو

الیکشن کمشن نے 20 جولائی کو قبائلی اضلاع میں انتخابات کے لیے پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کا اعلان الیکشن کمشن کی طرف سے جاری کیے گئے ایک نوٹیفکیشن میں کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلی کی 16 نشستوں پر پولنگ 20 جولائی کو ہو گی۔

الیکشن کمشن کے اعلامیے کے مطابق، فوج 18 جولائی سے 21 جولائی تک انتخابات کے عمل کے دوران پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر تعینات رہے گی۔

الیکشن کمشن کے مطابق۔ فوج کو قبائلی اضلاع میں انتخابات کے دوران امن و امان کی صورت حال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قبائلی اضلاع میں 20 جولائی کے انتخابات کے دوران تعینات کیے جانے والے فوجی افسران کو فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔

فوج کی تعیناتی پر تحفظات

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما زاہد خان کا کہنا ہے کہ انھیں پولنگ اسٹٰیشن کے اندر فوج کی تعیناتی پر اعتراض ہے۔ گزشتہ سال 25 جولائی کے عام انتخابات میں پولنگ اسٹیشنز کے اندر فوج کی موجودگی پر مختلف سیاسی جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

زاہد خان کے بقول الیکشن کمشن نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پولنگ اسٹیشن کے اندر بھی فوج تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

زاہد خان کا کہنا ہے کہ پولنگ اشٹیشن کے اندر فوج کی تعیناتی کی وجہ سے انتخابی عمل اور ان کے نتائج پر سوالات اٹھیں گے۔ لہذٰا، پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف پولیس کو موجود ہونا چاہیے۔

'فوج کو مجسٹریٹ کے اختیارات دینا درست نہیں'

پاکستان میں انتخابی عمل پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار سرور باری کا کہنا ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں بھی فوج کی پولنگ اسٹیشنز کے اندر تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ تاہم، ماضی کے مقابلے میں دھاندلی کی شکایات میں کمی بھی دیکھنے میں آئی تھی۔

سرور باری کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ فوج کی زیر نگرانی الیکشن کروانا کوئی اچھی روایت نہیں ہے۔ قبائلی اضلاع میں فوج کی تعیناتی کو شاید اس لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے کیوں کہ وہاں گزشتہ کچھ عرصے سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم، سرور باری کا کہنا ہے کہ فوج کے افسران کو فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے اخیتارات تفویض کرنا مناسب نہیں ہے۔ یہ اختیار پریذائڈنگ افسر کے پاس ہی رہنا چاہیے۔

یاد رہے کہ قبائلی اضلاع میں انتخابات 2 جولائی کو شیڈول تھے۔ تاہم، خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے امن و امان کی خراب صورت حال کے باعث الیکشن کمشن سے کچھ روز کے لیے الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

XS
SM
MD
LG