رسائی کے لنکس

آبائی علاقوں کو جانے والے محسود قبائل تاحال مشکل میں

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکام کی طرف سے گھر واپس بھیجے گئے قبائل جب دوبارہ عارضی طور پر نقل مکانی کر رہے ہیں تو انھیں کسی بھی طرح کی کوئی سرکاری امداد حاصل نہیں ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے بے گھر ہونے والے تقریباً 85 فیصد افراد کو حکام اپنے آبائی علاقوں میں واپس بھیج چکے ہیں لیکن ان کی ایک بڑی تعداد دوبارہ ملحقہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں واپس آ چکی ہے۔

ان افراد کا تعلق محسود قبائل سے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ آبائی علاقوں میں ان کے گھر تاحال رہائش کے قابل نہیں اور نہ ہی وہاں زندگی کی بنیادی ضروریات دستیاب ہیں۔

محسود قبیلے کے ایک سرکردہ راہنما ملک ایاز خان محسود نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکام نے انھیں علاقے کا دورہ کروایا تھا لیکن وہاں فی الوقت ایسا کوئی انتظام نہیں کہ لوگ اپنے خاندانوں کے ہمراہ زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔

"پورے 20 کلومیٹر کے علاقے میں ایک آدمی کے لیے ایک گھنٹے کی گنجائش نہیں ہے۔۔۔نہ راستہ ہے نہ اسکول ہے سب مسمار ہو چکے ہیں اگر لوگ چلے جائیں تو سردی سے پریشان رہیں گے کھانے پینے کی کوئی چیز بھی نہیں ملے گی وہاں۔"

2009ء میں پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن "راہ نجات" کر کے یہاں سے شدت پسندوں کا صفایا کیا تھا۔ اس وقت لاکھوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔

جنوبی وزیرستان کے پولیٹیکل ایجنٹ فخر الاسلام بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ابھی دوبارہ آبادکاری ایک مشکل کام ہے۔

"میرے اندازے کے مطابق 35 سے 40 ہزار گھر گر گئے ہیں جب لوگ اپنے علاقے میں واپس چلے جاتے ہیں تو۔۔۔وہاں گھر نہ ہو کمرہ نہ ہو تو ایک آدھ بندہ تو ادھر رہ جاتا ہے باقی ان کی خواتین اور بچے واپس آ جاتے ہیں، جب گھر بن جاتا ہے تو واپس چلے جاتے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا ماضی کی نسبت اس وقت جنوبی وزیرستان میں امن و امان کی صورتحال تسلی بخش ہے اور لوگوں کی اپنے گھروں کو واپسی کا عمل بھی بتدریج جاری ہے۔

فخر الاسلام کے بقول علاقے میں دیگر بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا جا چکا ہے اور آئندہ ماہ کے اواخر تک تمام افراد کی گھروں کو واپسی کا ہدف مکمل کر لیا جائے گا۔

"حکومت نے اربوں روپے لگائے ہیں سڑکیں اور اسپتال بنائے ہیں گھروں کے حوالے سے بھی پیسے ہیں اور دے بھی رہے ہیں لیکن چونکہ ابھی سروے پوری طرح مکمل نہیں ہوا تو لوگ پوری طرح نہیں گئے ہیں۔"

یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکام کی طرف سے گھر واپس بھیجے گئے قبائل جب دوبارہ عارضی طور پر نقل مکانی کر رہے ہیں تو انھیں کسی بھی طرح کی کوئی سرکاری امداد حاصل نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG