رسائی کے لنکس

logo-print

وسائل کی کمی کے باوجود افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی: پاکستانی وزیر


تین دہائیوں سے زائد عرصے سے لاکھوں افغان باشندے پاکستان کے مختلف علاقوں میں پناہ گزینوں کے طور پر رہ رہے ہیں۔ اس وقت بھی 15 لاکھ باقاعدہ اندراج کے ساتھ جب کہ اتنی ہی تعداد غیر قانونی طور پر مقیم ہے۔

پاکستان میں مقیم لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی رضاکارانہ وطن واپسی کے معاملے پر جہاں پاکستان، افغانستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین "یو این ایچ سی آر" کے نمائندوں کا رواں ہفتے اسلام آباد کے مضافات میں سہ فریقی اجلاس ہوا وہیں افغان طالبان کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا کہ پاکستانی حکومت اپنے ہاں مقیم افغانوں کے ساتھ نرم رویہ اپنائے۔

تین دہائیوں سے زائد عرصے سے لاکھوں افغان باشندے پاکستان کے مختلف علاقوں میں پناہ گزینوں کے طور پر رہ رہے ہیں۔ اس وقت بھی 15 لاکھ باقاعدہ اندراج کے ساتھ جب کہ اتنی ہی تعداد غیر قانونی طور پر مقیم ہے۔

بدھ کو افغان طالبان نے ایک بیان میں ان پناہ گزینوں کی طویل عرصے تک میزبانی کرنے پر پاکستان کو سراہا لیکن ساتھ ہی کہا کہ مرکزی اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو افغان پناہ گزینوں اور پاکستان کا سفر کرنے والے افغانوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا چاہیئے۔

حالیہ مہینوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں جس پر افغان باشندوں میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے جب کہ بعض ایسی شکایات بھی سامنے آئیں کہ حکام انھیں ہراساں کر رہے ہیں۔

تاہم پاکستانی عہدیدار یہ کہتے ہیں کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران ایسے افغانوں کی بھی چھان بین کی جاتی ہے جو بغیر قانونی دستاویزات کے پاکستان میں مقیم ہیں کیونکہ حکام کے بقول دہشت گرد عموماً ان افغان بستیوں میں پناہ لیے ہوتے ہیں یا افغان شہریوں کے بھیس میں سرحد کے آر پار نقل و حرکت کرتے ہیں۔

سہ فریقی اجلاس کے علاوہ بدھ کو اسلام آباد میں افغان پناہ گزینوں کے عمائدین کا ایک جرگہ بھی ہوا جس میں بھی تینوں فریقوں کے نمائندے شریک ہوئے۔

پاکستان کی طرف سے طالبان کے بیان پر تو کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن بدھ کو ہی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے سرحدوں اور ریاستی امور کے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک دیگر فریقین کے ساتھ مل کر افغان پناہ گزینوں کی باعزت وطن واپسی کے لیے کوشاں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک غریب ملک ہونے کے ناطے پاکستان افغان پناہ گزینوں کو وہ سہولیات نہیں دے سکا جو مغربی دنیا میں پناہ گزینوں کو حاصل ہیں لیکن انھیں یقین ہے کہ افغان پناہ گزینوں کو پاکستانی عوام سے کوئی شکایت نہیں ہو گی۔

پاکستان میں اندراج شدہ افغان پناہ گزینوں کے قیام میں چھ ماہ کی توسیع بھی کی جا چکی ہے جب کہ افغانستان واپس جانے والوں کو مالی اعانت فراہم کرنے کے علاوہ ان کے آبائی وطن میں ان کے لیے صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے بھی فریقین اپنی کوششں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کے لیے انھوں نے بین الاقوامی برادری سے بھی اپنا کردار ادا کرنے کا کہا ہے۔

سہ فریقی اجلاس میں شریک افغانستان کے وزیر برائے پناہ گزین سید علمی بلخی نے کہا کہ ان کا ملک افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے اقدام کر رہا ہے اور اس سلسلے میں تیار کیے گئے لائحہ عمل کو ستمبر تک حتمی شکل دے دی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG