رسائی کے لنکس

logo-print

کیا پاکستان ایچ آئی وی کی بڑھتی ہوئی وبا پر قابو پا سکے گا؟


فائل فوٹو

امریکہ اور عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کی ایک ٹیم پاکستان کے جنوبی اضلاع میں پھوٹ پڑنے والی ایچ آئی وی کی وبا کی روک تھام میں مدد دینے کے لیے منگل کے روز پاکستان پہنچی۔

پاکستان کے جنوبی اضلاع میں گزشتہ ماہ 700 سے زائد افراد کے ایچ آئی وی میں مبتلا ہونے کی تصدیق کی گئی تھی جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔

ایچ آئی وی کے پہلے مریض کی نشاندہی 25 اپریل کو لاڑکانہ میں ہوئی تھی جس کے بعد سے 22,000 کے لگ بھگ افراد کے خون کا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے۔ 15 لاکھ آبادی کے اس شہر میں ماضی میں بھی ایچ آئی وی کا باعث بننے والے وائرس کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی۔

اس سلسلے میں مقامی لوگوں کے خون کی جانچ کا سلسلہ جاری ہے اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کی وبا پھوٹ پڑنے سے متعلق ٹیلی ویژن پر خبریں دیکھنے کے بعد رضاکارانہ طور پر خون کا ٹیسٹ کرانے کے لیے ہر روز لوگوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے لیے یو این ایڈز کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ماریا ایلینا فیلیو بورومیو نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایچ آئی وی میں مبتلا پائے گئے افراد میں 80 فیصد تعداد 15 سال سے کم عمر کے بچوں کی ہے۔

ڈاکٹر بورومیو پاکستان میں اس مرض کی روک تھام کی کوششوں میں مدد دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد کا نصف پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کا ہے، جس سے یہ ایک بڑا چیلنج پیدا ہو گیا ہے کیونکہ امکان یہ ہے کہ انہیں یہ مرض متاثرہ اور استعمال شدہ سوئیوں اور سرنجوں یا پھر آلودہ خون کی منتقلی سے ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وبا کی اصل وجوہات کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت اور بیماریوں کی روک تھام کے امریکی مرکز (سی ڈی سی) کے 11 ماہرین کی ٹیم پاکستانی حکومت کی درخواست پر کراچی پہنچ گئی ہے جو مقامی حکام کے ساتھ مل کر اس وبا کے وجوہات سے متعلق جامع تحقیق کرے گی اور تین ہفتے میں تحقیق مکمل کرنے کے بعد اس کی روک تھام کے بارے میں تجاویز دے گی تاکہ اس وبا کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔

پاکستان کی وفاقی حکومت کے مشیر صحت ظفر مرزا کے مطابق ایچ آئی وی میں مبتلا بچوں کے والدین میں اس وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی ہے اور یہ بات خاصی تشویش ناک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں استعمال شدہ سرنجوں کو دوبارہ پیک کر کے فروخت کیا جا رہا ہے جب کہ آلودہ خون کی منتقلی کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ اسپتالوں میں انفیکشن کو روکنے کا نظام بھی غیر تسلی بخش ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس وبا کے پھوٹنے سے پاکستان میں عمومی طور پر اور سندھ میں خصوصی طور پر صحت کے نظام کی ناکامی کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے دیگر علاقوں کے صحت کے مراکز بھی مالی وسائل کی شدید کمی کا شکار ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG