رسائی کے لنکس

پاکستان اور ترک صدر کا روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار پر تبادلہ خیال


پاکستان اور ترکی کے صدور نے میانمار میں روہنگیا نسل کے مسلمانوں کی حالت زار پر تبادلہ خیال کیا ہے جب کہ اسلامی تعاون تنظیم نے بھی اس ملک پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو اس ضمن میں حقائق جاننے کے لیے تحقیقات کی اجازت دے۔

روہنگیا مسلمانوں کے خلاف میانمار کی سکیورٹی فورسز اور مقامی بدھ آبادی کی طرف سے مبینہ قتل و غارت گری اور ایذا رسانیوں کے باعث حالیہ ہفتوں میں سیکڑوں روہنگیا ہلاک جب کہ تقریباً دو لاکھ کے لگ بھگ بنگلہ دیش نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

میانمار کی حکومت کا موقف ہے کہ روہنگیا نسل کے لوگوں کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جا رہا ہے اور سکیورٹی فورسز صرف باغیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔

اتوار کو قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس کے موقع پر پاکستان کے صدر ممنون حسین اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ دونوں ملک میانمار سے روہنگیا برادری کے خلاف ہونے والے مبینہ مظالم کے خاتمے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

اسلامی تعاون تنظیم نے بھی اپنے اجلاس میں میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے حقائق مشن کو اپنے ہاں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی اجازت دے تا کہ ذمہ دار عناصر کو کٹہرے میں لایا جا سکے۔

دریں اثناء پاکستان کے صدر ممنون حسین نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مسلمان دنیا پر زور دیا کہ وہ دور حاضر کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے ضمن میں مشترکہ کوششیں کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلامی دنیا کے لیے انتہائی اہم ہے کہ وہ سیاست اور سماجی و اقتصادی شعبوں میں خودانحصاری حاصل کرے۔

ترک صدر اردوان کا اجلاس سے خطاب میں کہنا تھا کہ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں اور اس کے لیے انھوں نے اسلامی دنیا میں اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا کہ مسلمان ملکوں کو میانمار میں تشدد کے خلاف مل کر کام کرنا ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG