رسائی کے لنکس

سلامتی کے خدشات، دو بازیاب بلاگرز 'بیرون ملک' چلے گئے


لاپتا بلاگرز کی بازیابی کے لیے کراچی میں ہوئے ایک مظاہرے کا منظر۔ (فائل فوٹو)

انسانی حقوق کی ایک نامور سرگرم کارکن طاہرہ عبداللہ بلاگرز کی گمشدگی اور بازیابی کے معاملے کو مبہم قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ اب بھی بہت سے سوالات جواب طلب ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں لاپتا ہونے کے بعد حال ہی میں بازیاب ہونے والے دو بلاگرز سے متعلق اب یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ وہ سلامتی کے خدشات کے باعث بیرون ملک چلے گئے ہیں۔

جنوری کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف مقامات سے پانچ مختلف بلاگرز اور سماجی کارکنان اچانک لاپتا ہو گئے تھے جن میں تین کے بارے میں گزشتہ ہفتے ہی ان کے اہل خانہ نے بتایا تھا کہ وہ بازیاب ہو گئے ہیں۔

تاہم نہ تو ان کی گمشدگی اور نہ ہی بازیابی کے بارے میں کسی طرح کی تفصیل منظر عام پر آئی ہے۔

لاپتا ہونے والے وقاص گورایہ اور عاصم نصیر کے اہل خانہ نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کو بتایا کہ جان کو لاحق خطرات کے باعث وہ دونوں پاکستان سے چلے گئے ہیں، لیکن اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان افراد کی گمشدگی کے بعد خاص طور پر سوشل میڈیا پر ایسے بیانات سامنے آتے رہے کہ یہ افراد مبینہ طور پر توہین مذہب کے مرتکب ہوتے رہے ہیں۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق بیرون ملک جانے والے بلاگرز کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے استرداد کے باوجود ایسے پیغامات موصول ہو رہے ہیں کہ جن میں ان بلاگرز پر توہین مذہب کا الزام لگا کر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

پاکستان میں توہین مذہب ایک بہت ہی حساس معاملہ ہے جس کی سزا قانون کے مطابق موت ہے۔

ان افراد کی گمشدگی کے بعد انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیموں اور سول سوسائٹی کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایسے شک و شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ ان واقعات میں مبینہ طور پر انٹیلی جنس ایجنسیاں ملوث ہیں۔

تاہم منگل کو ہی راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ایسے الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔

"اگر وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ وہ ان بلاگرز کو بازیاب کروانے کے لیے متعلقہ اداروں سے جو یا بھی ان کے پاس دستیاب ہیں تو وہ کارروائی کریں گے تو۔۔۔فوج بھی ریاست کا حصہ ہے انٹیلی جنس ادارے میں ریاست کا حصہ ہیں تو جو بھی انھیں کوششیں کیں اور بلاگرز واپس بھی آگئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا اشارہ انٹیلی جنس ایجنسیز کی طرف تھا یا کسی کی طرف تھا۔"

ان سماجی کارکنوں کی گمشدگی کے چند دن بعد وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ یہ افراد جلد بازیاب ہو جائیں گے اور انھوں نے اس بارے میں کسی بھی طرح کا ابہام پیدا کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

انسانی حقوق کی ایک نامور سرگرم کارکن طاہرہ عبداللہ بلاگرز کی گمشدگی اور بازیابی کے معاملے کو مبہم قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ اب بھی بہت سے سوالات جواب طلب ہیں۔

"ہمیں نہیں معلوم کہ یہ دو ہیں، تین ہیں چار ہیں جو کہ بازیاب ہوئے ہیں اور چلے گئے ہیں ہمیں ان کی بازیابی کے بارے میں وثوق کے ساتھ کوئی ثبوت نہیں دیا گیا انھیں منظر عام پر نہیں لایا گیا۔ دوسری بات یہ کہ وہ تھے کہاں، کس نے انھیں اٹھایا، کیوں اٹھایا اور کیوں واپس کر دیا؟ یہی سب سے برے سوال ہیں پاکستان میں اس وقت۔"

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جبری گمشدگیوں کے معاملے پر بنائے گئے حکومتی کمیشن کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ اس مسئلے کے دیرپا حل کے لیے سیاسی عزم کی اشد ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG