رسائی کے لنکس

logo-print

عمران فاروق کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث دو افراد گرفتار


وزارت داخلہ کی طرف سے جمعہ کو جاری ایک بیان کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ گرفتار شدگان کا تعلق کسی سیاسی گروپ یا جماعت سے ہے۔

پاکستان میں سکیورٹی فورسز نے دو افراد کو گرفتار کیا ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما عمران فاروق کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

جمعرات کو دیر گئے بلوچستان میں فرنیئر کور کے سربراہ نے وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کو فون کر کے اس گرفتاری اور ملزمان سے متعلق تفصیل سے آگاہ کیا۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق وزیر داخلہ نے ملزمان سے ابتدائی تفتیش کے بعد انھیں اسلام آباد منتقل کرنے کا کہا ہے۔

وزارت داخلہ کی طرف سے جمعہ کو جاری ایک بیان کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ گرفتار شدگان کا تعلق کسی سیاسی گروپ یا جماعت سے ہے اور قانون کے تمام تقاضے پورے کر کے ہی تفتیش کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔

مزید برآں گرفتار کیے گئے افراد کے بارے میں ابھی تک وہی شواہد اور ثبوت ریکارڈ پر ہیں جو برطانوی پولیس نے پاکستان کو مہیا کیے تھے۔

عمران فاروق کو ستمبر 2010ء میں لندن میں تیز دھار آلے کے وار کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا اور برطانوی پولیس اس بارے میں پاکستان سے رابطہ کر کے کہہ چکی ہے کہ اس واقعے میں ملوث ملزمان پاکستان میں ہیں۔

چمن سرحد سے گرفتار کیے گئے افراد کے نام خالد شمیم اور محسن علی بتائے گئے ہیں۔

اب تک سامنے آنے والی تفصیلات میں بتایا جا چکا ہے کہ عمران فاروق کے قتل کے وقت خالد کراچی میں تھا لیکن اس نے واردات میں مبینہ طور پر اہم کردار ادا کیا تھا جب کہ کراچی سے گرفتار ہونے والے معظم علی نے مبینہ طور پر محسن اور کاشف علی کو برطانیہ بھیجنے کا انتظام کیا تھا۔

متحدہ قومی موومنٹ "ایم کیو ایم" کے عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ گرفتار ہونے والوں میں سے کسی سے بھی ان کی جماعت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

حالیہ مہینوں میں کراچی میں رینجرز نے مختلف کارروائیوں کے دوران متعدد لوگوں کو گرفتار کیا جب کہ مارچ میں متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی دفتر نائن زیرو پر چھاپہ بھی مارا تھا۔

اس چھاپے کے بعد ایم کیو ایم یہ الزام لگاتی آئی ہے کہ سکیورٹی فورسز ٹارگٹڈ آپریشن کے نام پر ان کی جماعت کے خلاف یکطرفہ کارروائی کر رہی ہیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن بلا تفریق شہر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

دریں اثنا سابقہ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی طرف سے ریاستی اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنے کے سخت بیان کے بعد ملک کی سیاسی صورتحال میں ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔

یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ سابق صدر آصف زرداری نے یہ بیان رینجرز کی طرف سے کراچی میں کی گئی اس کارروائی کے بعد دیا ہے جس میں بدعنوانی کے الزام میں پیپلز پارٹی کے بعض وفاداروں کو حراست میں لیا گیا۔

تاہم پارٹی کے رہنماؤں نے اس تاثر کی نفی کی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے بھی سابق صدر کے بیان کے بعد ان سے ہونے والی ایک ملاقات منسوخ کر دی تھی جس کے بعد حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی خلیج بڑھنے کی باتیں کی جا رہی ہیں جب کہ پیپلز پارٹی نے موجودہ صورتحال میں اپنی سابقہ جماعت اتحادی متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ دوبارہ مفاہمت کر لی ہے۔

XS
SM
MD
LG