رسائی کے لنکس

logo-print

ڈرون حملوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات ہوں گی


پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان معظم احمد خان نے جمعرات کے روز کہا کہ یہ انکوائری عالمی تنظیم کے خصوصی ایلچی بین ایمرسن کریں گے۔

پاکستان نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب ڈرون حملوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق انکوائری شروع کریں گے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان معظم احمد خان نے جمعرات کے روز کہا کہ یہ انکوائری عالمی تنظیم کے خصوصی ایلچی بین ایمرسن کریں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ بین ایمرسن نے ڈرون حملوں کے خلاف سوچ رکھنے والے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات کی جائیں۔

ترجمان نے ڈرون حملوں کے بارے میں ایک مرتبہ پھر حکومت پاکستان کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ان سے انسداد دہشت گردی کی کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ پاکستان ان حملوں کو اپنی خود مختاری اور سالمیت کی خلاف ورزی تصور کرتا ہے۔

ایک موقر امریکی روزنامہ ’’دی واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے خبر دی تھی امریکی سی آئی اے کے نامزد سربراہ جان برینن ڈرون حملوں سے متعلق سی آئی اے کے نئے قواعد و ضوابط کا پاکستان پر اطلاق نہ کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پلے بک کے نام سے ترتیب دی جانے والی قواعد وضوابط کی اس خفیہ کتاب میں شدت پسندوں کو ہدف بنانے کے حوالے سے سخت قواعد متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
اس رضامندی سے امریکہ کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون طیاروں سے میزائل حملے کرنے کی اجازت مل جائے گی۔

ایک روز قبل وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے کو امریکی سفیر رچرڈ اولسن سے بات چیت میں اٹھائیں گی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان معظم احمد خان نے بتایا کہ بدھ کو حنا ربانی کھر اور سفیر رچرڈ اولسن کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ڈرون حملوں پر بھی بات چیت کی گئی۔
XS
SM
MD
LG