رسائی کے لنکس

ای سی او کے رکن ممالک میں تعاون اور رابطوں کے فروغ پر زور


احسن اقبال اجلاس سے افتتاحی خطاب کر رہے ہیں

اقتصادی تعاون تنظیم کے 10 رکن ممالک ہیں جن میں افغانستان، آذربائیجان، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

پاکستان نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے رکن ممالک کے درمیان قریبی تعاون اور تجارت کے فروغ پر زور دیا ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں ای سی او کی 'ریجنل پلاننگ کونسل' کے 28 ویں اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کا کہنا تھا کہ خطے کو درپیش چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کے لیے روابط کو فعال بنانا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی ملک اکیلا دہشت گردی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نہیں نمٹ سکتا لہذا تمام ممالک کو مل کر ایسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔

ان کے بقول سیاست، معیشت، سلامتی اور ماحولیات کے شعبوں میں چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ رکن ممالک کے مابین براہِ راست پروازوں کے علاوہ تاجروں اور عوام کے لیے ویزوں کے حصول کو آسان بنانے کے لیے بھی اقدام کیے جانے چاہئیں۔

پاکستانی وزیر نے کہا کہ اقتصادی ترقی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ اپنی توجہ انسانی وسائل کی ترقی پر مرکوز کی جائے۔

اقتصادی تعاون تنظیم کے 10 رکن ممالک ہیں جن میں افغانستان، آذربائیجان، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

اقتصادی تعاون تنظیم کا افغانستان سے متعلق ایک خصوصی اجلاس بھی جمعرات کو منعقد ہو رہا ہے۔

پیر کو شروع ہونے والی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کونسل کے سیکرٹری جنرل حلیل ابراہیم نے تنظیم کی طرف سے خطے کے عوام کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے شرکا کو آگاہ کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG