رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی قائم مقام نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز کا دورہ پاکستان


پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعتماد کی بحالی اور مل کر کام کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سلسلے میں امریکہ کی قائم مقام معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا ایلس ویلز نے پیر کو پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔

وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق امریکہ کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سینیئر عہدیدار اور اسلام آباد میں امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ہیل بھی اس ملاقات میں شریک تھے۔

وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے بعد پاکستانی وزارت خارجہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ دورہ دو طرفہ اور علاقائی تعاون پر دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

بھارتی اخبارات کے مطابق اس ملاقات میں پاکستانی خارجہ سیکٹری نے بھارتی آرمی چیف کی طرف سے مبینہ ’غیر ذمہ دارانہ بیان‘ اور کشمیر میں کنٹرول لائن کی برھتی ہوئی خلاف ورزیوں کے بارے میں امریکی قائم مقام نائب وزیر خارجہ سے شکایت کی اور اُنہیں کہا کہ وہ بھارت کو ایسے اقدامات سے باز رہنے کا مشورہ دے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے ایلس ویلز سے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی اعتماد اور احترام کی بنیاد تعلقات کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

امریکی وفد کو پاکستان کی طرف سے انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا جب کہ یہ بھی کہا گیا کہ ان کارروائیوں سے نا صرف پاکستان امن آیا بلکہ یہ خطے میں امن و استحکام میں معاون ثابت ہو گا۔

پاکستانی سیکرٹری خارجہ کی طرف سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

بیان کے مطابق سفیر ایلس ویلز نے دو طرفہ تعلقات اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہا. اُنھوں نے پرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے امریکہ کی طرف پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کو بھی دہرایا۔

ایلس ویلز نے انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو بہتر بنانے کے لیے انٹیلی جنس تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں دونوں فریقوں نے افغانوں کی زیر قیادت امن عمل کی کوششوں پر بھی بات چیت کی۔

گزشتہ جمعے کو پاکستانی فوج کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ کی سینیٹرل کمانڈ ’سینٹ کام‘ کے کمانڈر جنرل جوزوف ووٹل اور ایک امریکی سینیٹر نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فون پر بات کی، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹ کے بعد پاک امریکہ سکیورٹی تعاون پر بات چیت کی گئی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے سال کے آغاز پر اپنے پہلی ہی ٹوئٹ میں پاکستان سے متعلق سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کے ملک نے پاکستان کو گزشتہ 15 برسوں میں 33 ارب ڈالر بطور امداد فراہم کیے جس کے بدلے اُن کے بقول پاکستان سے امریکہ کو صرف ’’دھو کہ اور جھوٹ ہی ملا۔‘‘

جب کہ اس کے بعد امریکہ نے پاکستان کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی امداد بھی بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

پاکستان کی حکومت پہلے ہی امریکی صدر کے بیان پر سخت ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے امداد سے متعلق اُن کے مؤقف کو مسترد کر چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG