رسائی کے لنکس

logo-print

سیلاب زدگان کے لیے مزید امریکی امداد کی یقین دہانی


ولیم مارٹن صحافیوں کو تفصیلات بتارہے ہیں

امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں المناک سیلاب سے ہوئی تباہی عالمی امداد کا تقاضہ کرتی ہے اور امریکہ اب تک فراخ دلانہ امداد کرچکا ہے جو کہ مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔

کراچی میں امریکی قونصل خانے کے سربراہ ولیم مارٹن نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ سیلاب سے بتدریج بڑھتے ہوئے نقصانات نے امریکی شہریوں کے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور متاثرین اس آفت سے نمٹنے میں ان کو اپنے شانہ بشانہ پائیں گے۔امریکی سفارت کار کا کہنا تھا کہ مقامی غیر سرکاری تنظیموں اور عالمی امدادی اداروں کی وساطت سے سیلاب زدگان کی امداد میں اضافہ کیا جائے گا۔

ولیم مارٹن کے مطابق امریکہ اور پاکستان میں پائی جانے والی مشترکہ انسانی اقدار کے باعث موجودہ حالات میں ان ممالک کی حکومتوں کے درمیان سیاسی معاملات پر اختلافات کو کم کر دی ہے۔

انھوں نے امریکہ کی طرف سے اب تک دی جانے والی امداد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی طور پر پانچ کروڑ 50 لاکھ ڈالر امداد کا اعلان کیا گیا ہے جس میں مالی اعانت اور ضروری اشیاء کی فوری فراہمی کے علاوہ ماہرین کی خدمات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی ادارہ خوارک کے توسط سے ایک لاکھ 65ہزار پانچ سو لو گوں میں ایک مہینے کا راشن بھی تقسیم کیا گیا ۔

علاوہ ازیں امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں کی مدد سے پاکستان کے شمالی علاقوں میں دو ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جب کہ متاثرین کے لیے حلال کھانے کے پیکٹ، عارضی ٹھکانوں کے لیے خیمے اور پلاسٹک شیٹس اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

ولیم مارٹن کا کہنا تھا کہ امریکی صدر براک اوباما پاکستان میں آئے سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بارے میں فکر مند ہیں اور انھوں نے اپنی حکومت کو اس بحران میں پاکستان کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ادھر وفاقی وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ نے اسلام آباد میں صحافیوں کو بتایا کہ امدادی کارروائیوں میں اس وقت 55ہیلی کاپٹر حصہ لے رہے ہیں جن میں سے چھ امریکی فوج اور تین متحدہ عرب امارات نے فراہم کیے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ امریکہ سے 20ہیلی کاپٹر امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے بھیجے جارہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG