رسائی کے لنکس

logo-print

غلط فہمیوں کی دوری کے لیے پاک امریکہ رابطے ضروری: اعزاز چوہدری


پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ تمام دہشت گرد گروپوں بشمول حقانی نیٹ ورک کے خلاف بلا امتیاز کارروائیوں کے باوجود امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے ان اقدامات کی توثیق نہیں کی۔

پاکستان نے امریکہ کی طرف سے حال ہی میں اتحادی اعانتی فنڈ کی مد میں دی جانے والی 30 کروڑ ڈالر کی امدادی رقم روکنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی صدر براک اوباما کے معاون خصوصی اور امریکی قومی سلامتی کونسل کے سینیئر ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا ڈاکٹر پیٹر لیوائے سے گفتگو میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ تمام دہشت گرد گروپوں بشمول حقانی نیٹ ورک کے خلاف بلا امتیاز کارروائیوں کے باوجود امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے ان اقدامات کی توثیق نہیں کی۔

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق سیکرٹری خارجہ نے قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کے لیے کیے گئے فوجی آپریشن "ضرب عضب" کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستانی قیادت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی کو بھی پاکستان کی سر زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں امریکی حکام کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ وزیر دفاع ایش کارٹر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کانگریس کو یقین دہانی کے اس سرٹیفیکٹ پر دستخط نہیں کریں گے جو دہشت گرد گروپ حقانی نیٹ ورک کے خلاف پاکستان کی ٹھوس کارروائیوں کی تصدیق کے لیے ضروری ہے۔

امریکی کانگریس کا اصرار رہا ہے کہ پاکستان صرف اپنے لیے خطرہ سمجھے جانے والے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے جب کہ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک اب بھی مبینہ طور پر اس کی سرزمین استعمال کر کے افغانستان میں امریکی مفادات پر حملے کر رہے ہیں۔

اس بنا پر اتحادی اعانتی فنڈ کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائیوں سے مشروط کیا گیا تھا۔

تاہم پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک سمیت دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی گئی ہے۔

پیٹر لیوائے سے ملاقات میں سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام شعبوں میں وسیع تعاون باہمی مفاد میں ہے۔

جمعرات کو دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان کے مطابق سیکرٹری خارجہ نے دوطرفہ تعلقات میں تناؤ کا باعث بننے والے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے رابطے جاری رکھنا بہت اہم ہے۔

تجزیہ کار ظفر جسپال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بہت سے معاملات پر اختلافات کے باوجود دونوں ملکوں کو اس بات کا احساس ہے کہ باہمی تعاون دوطرفہ مفاد میں ہے۔

’’پاکستان سے اگر تعلقات بہتر نہیں رکھیں گے تو جہاں پاکستان کے لیے مسائل ہوں گی وہیں امریکہ کی پالیسی کے مقاصد جو حاصل کرنے ہیں، اس خطے میں خاص طور پر افغانستان میں یا باقی ہمسایہ ملکوں میں وہ پورے نہیں ہوں گے۔۔۔۔ ساتھ یہ درست ہے کہ دونوں ملکوں کے جو نمائندے ہیں یہ جانتے ہیں کہ ان کے جو باہمی تعلقات ہیں وہ جاری رہیں اور یہ جو بد اعتمادی ہے اس کو کم کیا جائے۔ ‘‘

رواں سال کے اوائل میں امریکہ کی طرف سے پاکستان کو آٹھ ایف 16 لڑاکا طیاروں کی فروخت کی مد میں کروڑوں ڈالر کی زر اعانت نہ دینے اور پھر امداد میں کٹوتی اور اسے مشروط کرنے جیسے معاملات کے باعث دونوں ملکوں کے تعلقات میں کھنچاو دیکھا گیا ہے۔

امریکی معاون خصوصی ڈاکٹر لیوائے کا اس موقع پر کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ انسداد دہشت گردی کی لڑائی میں پاکستانی قوم اور مسلح افواج کی قربانیوں کا اعتراف کرتی ہے۔

انھوں نے افغانستان میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کو بھی سراہا۔

ڈاکٹر لیوائے کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں امن و سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان اور امریکہ کا مل کر کامیابی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف قریبی تعاون بہت اہم ہے۔

دریں اثنا پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی رچرڈ اولسن اور افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسن نے جمعرات کو راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔

فوج کے شعبے تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے ایک بیان کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے دوطرفہ اُمور اور پاک افغان سرحڈ کی نگرانی کو بہتر بنانے سے متعلق اُمور پر بات چیت کی گئی۔

XS
SM
MD
LG