رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان: ڈرون حملے میں کم ازکم سات 'شدت پسند' ہلاک


دریں اثنا حکام کے مطابق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران 16 دسمبر کو پشاور میں اسکول پر دہشت گردانہ حملے کے ایک مبینہ منصوبہ ساز کو ہلاک کر دیا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مشتبہ امریکی ڈرون حملوں میں کم از کم سات مبینہ عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق بغیر پائلٹ کے جاسوس طیاروں سے شوال کے علاقوں میں مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ڈرون طیاروں سے کنڈ اور منگوتری میں دو مختلف مکانات پر چار میزائل داغے گئے۔ مرنے والے شدت پسندوں کی شناخت کے بارے میں فوری طور پر مصدقہ معلومات حاصل نہیں ہو سکیں ہیں۔

لیکن بعض اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں غیر ملکی عسکریت پسند بھی مارے گئے۔

یہ حملے اسی علاقے میں ہوئے جہاں پاکستانی فوج نے جون کے وسط سے ضرب عضب کے نام سے شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر رکھی ہے جس میں اب تک حکام کے بقول 1200 سے زائد شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

تاہم پاکستانی عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ ڈرون حملوں کا اس آپریشن سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ملک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

امریکہ کا ماننا ہے کہ ڈرون طیاروں سے کی جانے والی کارروائیاں انسداد دہشت گردی کی جنگ میں خاصی کارگر ثابت ہوئی ہیں اور ان حملوں میں اب تک القاعدہ سے منسلک متعدد شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

دریں اثنا حکام کے مطابق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران 16 دسمبر کو پشاور میں اسکول پر دہشت گردانہ حملے کے ایک مبینہ منصوبہ کو ہلاک کر دیا ہے۔

خیبر ایجنسی کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار کے مطابق جمعرات کو دیر گئے جمرود کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر چھاپا مارا۔ اس دوران شدت پسندوں سے ہونے والی جھڑپ میں صدام نامی مبینہ معاون ہلاک ہو گیا جب کہ اس کے چھ ساتھیوں کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

حکام کے بقول صدام پشاور اور اس کے گردو نواح میں انسداد پولیو کی ٹیموں پر جان لیوا حملوں میں بھی ملوث تھا۔

گزشتہ ہفتے سات دہشت گردوں نے پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ کیا تھا جس میں 133 بچوں سمیت 149 افراد ہلاک اور ایک سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اس حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں دہشت گردوں اور مشتبہ افراد کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پشاور اور اس کے مضافات میں کی گئی چھاپا مار کارروائیوں میں کم ازکم 65 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں متعدد افغان باشندے بھی شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG