رسائی کے لنکس

آفات سے نمٹنے کے ادارے کو 858 امریکی خیموں کی فراہمی


آفات سے نمٹنے کے ادارے کو 858 امریکی خیموں کی فراہمی
آفات سے نمٹنے کے ادارے کو 858 امریکی خیموں کی فراہمی

دوطرفہ سیاسی تعلقات میں تعطل کے باوجود امریکہ اور پاکستان کے درمیان صحت، تعلیم اور آفات سے نمٹنے جیسے شعبوں میں تعاون بدستور جاری ہے۔

اس سلسلے میں بدھ کو اسلام آباد میں ایک خصوصی تقریب میں امریکہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی ’یو ایس ایڈ‘ کی طرف سے آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کو 858 سے زائد خصوصی خیمے فراہم کیے گئے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں چھت سے محروم ہونے والے خاندانوں کو فوری طور پر ان میں پناہ دی جا سکے۔

تقریب کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ’یو ایس ایڈ‘ کی پاکستان میں نائب سربراہ کیرین فری مین نے بتایا کہ ان کا ادارہ آنے والے مہینوں میں صوبائی اور کمیونٹی کی سطح پر عام لوگوں کو خصوصی تربیت دینے کے منصوبوں پر بھی کام شروع کرے گا تاکہ وہ کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں ابتدائی طور پر اپنی مدد آپ کر سکیں۔

کیرین فری مین
کیرین فری مین

’’ان امریکی تربیتی منصوبوں کا بنیادی مقصد ہنگامی حالات میں نا صرف پاکستان کو ضروری سامان اور آلات کی فراہمی ہے بلکہ اسے اس قابل بھی بنانا ہے کہ مقامی طور پر کسی بھی آفت سے نمٹا جا سکے‘‘۔

گزشتہ دو سالوں کے دوران سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے امریکہ پاکستان کو اب تک 70 کروڑ ڈالر مالیت کی امداد فراہم کر چکا ہے۔

اسلام آباد میں بدھ کو منعقدہ تقریب میں این ڈی ایم اے کی نمائندگی کرنے والے بریگیڈئیر ساجد احمد نے وی او اے کو بتایا کہ 2005ء کے تباہ کن زلزلے اور گزشتہ دو سالوں کے دوران آنے والے غیر معمولی سیلابوں کے بعد اب ان کا ادارہ پہلے سے کہیں بہتر طور پر مستقبل میں ایسی آفات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

’’اس کام میں یو ایس ایڈ مدد کر رہی ہے، حکومت اپنے طور پر (بھی کوششیں کر رہی ہے) اس کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور امداد دینے والے دیگر اداروں نے بھی معاونت کی ہے‘‘۔

بریگیڈئیر ساجد احمد نے بتایا کہ ان کے ادارے کی کارکرگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دنوں ایبیٹ آباد کے قریب منہدم ہونے والی ایک کان کے ملبے سے لاشوں کو نکالنے کے لیے ان کے ادارے کی تربیت یافتہ ٹیم دشوار گزار راستہ طے کر کے سب سے پہلے جائے وقوع پر پہنچی جب کہ گلگت بلتستان میں عطا آباد کے علاقے میں پہاڑ سرکنے سے بننے والی جھیل سے مقامی آبادی کو محفوظ رکھنے کی کوششوں میں بھی این ڈی ایم اے نے کلیدی کردار ادا کیا۔

XS
SM
MD
LG