رسائی کے لنکس

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دیں: وزیر خارجہ


امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی کے اعلان کے بعد اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف سے منگل کو ملاقات کی۔

وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق امریکی سفیر نے صدر ٹرمپ کی افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق نظرثانی شدہ پالیسی کے بارے میں خواجہ آصف کو آگاہ کیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے پالیسی بیان میں کہا تھا کہ امریکہ پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کے محفوظ ٹھکانوں پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔

اُنھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ تنظیمیں جو امریکی شہریوں کو قتل کرتی رہی ہیں، پاکستان اُن کو اپنی سرزمین پر پناہ دیتا آیا ہے۔

پاکستان ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتا رہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی گئی ہے اور عسکری حکام کے بقول کسی بھی دہشت گرد تنظیم کا پاکستان میں کوئی منظم ڈھانچہ نہیں ہے۔

امریکی سفیر سے ملاقات میں بھی پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں اور پاکستان دہشت گردی کے خاتمے لیے بین الاقوامی برداری کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

خواجہ آصف اپنے امریکی ہم منصب ریکس ٹلرسن کی دعوت پر رواں ہفتے امریکہ جائیں گے جہاں خطے سے متعلق امریکہ کی نئی پالیسی سمیت دو طرفہ اُمور پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔

اُدھر میں پاکستان میں تجزیہ کاروں اور قانون سازوں نے اپنے عمومی ردعمل میں کہا ہے کہ امریکی پالیسی سے واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان عدم تعاون کی خلیج مزید بڑھ سکتی ہے۔

پاکستان کی ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے اُمور خارجہ کے رکن سینیٹر فرحت اللہ بابر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ امریکی صدر کے بیان سے خطے میں امن کی کوششوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔

’’کیونکہ صدر ٹرمپ نے کافی غور اور فکر، سوچ و بچار کے بعد اب ایک باضابطہ پالیسی کا اعلان کیا ہے اور اس کے اندر انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں جو مسلح دہشت گرد تنظیمیں ہیں اس کے بارے میں بھی انھوں نے واضح پیغام دیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اگرچہ یہ امریکی پالیسی کا تسلسل یہ ہے لیکن اس کے وزن میں اضافہ اس لیے ہوا ہے کہ صدر ٹرمپ نے خود یہ اعلان کیا ہے۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی اس بات کو یقینی بنانا چاہیئے کہ کوئی بھی دہشت گرد تنظیم اس ملک میں نام تبدیل کر کے کام نہ کر سکے۔

’’پاکستان دباؤ میں آئے گا اور اپنے دفاع میں اپنے اقدامات اٹھائے گا۔۔۔ ایک تو بات یہ ہے کہ اس سے خطے میں امن کی کوششوں کو فائدہ نہیں پہنچے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو کسی اور نام سے ابھرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔ نیشنل ایکشن پلان میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے۔‘‘

ایک غیر سرکاری ادارے پاک انسٹیٹویٹ آف پیس اسٹیڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس سے قبل بھی امریکہ کی طرف سے پاکستان سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کرے۔

’’بہت صورت تو یہ ہی بنتی ہے کہ ایک نیا تعاون یا رابطہ ہو، تاکہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان جو عدم اعتماد کی فضا ہے اُس کو دور کیا جائے۔ جب تک یہ دور نہیں ہو گی تو پاکستان اور امریکہ کے جو مشترکہ اہداف ہیں اُن پر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ وہ افغانستان میں بھارت کا زیادہ کردار دیکھنا چاہتے ہیں۔

’’اُنھوں نے بھارت کر کے کردار کو سراہا ہے اور کہا وہ افغانستان کے استحکام میں کردار ادا کریں، یہ وہ نکتہ ہے جو یقیناً پاکستان کے لیے بہت پریشان کن ہو گا۔‘‘

دریں حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف 100 ارب ڈالر سے زائد معاشی نقصان ہوا بلکہ ہزاروں پاکستانیوں کی جانیں گئیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG