رسائی کے لنکس

logo-print

پاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں انتہائی قدم نقصان دہ ہوسکتا ہے: مبصرین


اطہر عباس کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے قومی سلامتی پر کابینہ کی خصوصی کمیٹی کے مجوزہ اجلاس میں امریکہ سے تعلقات سے متعلق کسی سخت فیصلے کے امکانات روشن نہیں۔

پاکستان کے سرحدی قبائلی علاقے میں جمعہ کو مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں کالعدم عسکریت پسند تنظیم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد حکومت نے اعلان کیا کہ وہ اس واقعے کے تناظر میں امریکہ کے ساتھ تعلقات اور تعاون کا ازسر نو جائزہ لے گی۔

ادھر حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف حکومت پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے پاکستان کے راستے نیٹو افواج کی رسد بند کرنے کے لیے پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں میں قرارداد پیش کرنے کا اعلان بھی کر چکی ہے۔

تاہم تجزیہ نگاروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف انتظامیہ کو ڈرون کے معاملے کو بین الاقوامی فورم پر زیادہ شدت کے ساتھ اٹھانا چاہیے اور موجودہ صورتحال میں کسی قسم کا انتہائی قدم نا صرف ملک اور خطے کی سلامتی بلکہ پاکستان کے لیے شدید اقتصادی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

دفاعی تجزیہ نگار اور پاکستانی فوج کے سابق ترجمان اطہر عباس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے قومی سلامتی پر کابینہ کی خصوصی کمیٹی کے مجوزہ اجلاس میں امریکہ سے تعلقات سے متعلق کسی سخت فیصلے کے امکانات روشن نہیں۔

’’پاکستان اس وقت سخت اقتصادی مشکلات کا شکار ہے اور اس میں بہتری اس طرح تو نہیں آئے گی کہ انتہائی پوزیشن لی جائے اور اپنے آپ کو دنیا سے تنہا کرلیا جائے۔ کیا پاکستان، ریاست، فوج اس کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا حکومت اور عوام اس کے لیے تیار ہیں؟‘‘

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں شدت پسندی و دہشت گردی سے متعلق ’’شدید اختلاف رائے‘‘ پایا جاتا ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی بظاہر انہیں خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں کہا تھا

’’کیونکہ ہم حکومت میں ہیں اپوزیشن میں نہیں پس امریکہ سے تعاون سے متعلق تمام پہلوؤں پر بات چیت اور انھیں زیر غور لایا جائے گا۔‘‘

پاکستان نے 2011ء میں افغان سرحد کے قریب پاکستانی چوکیوں پر حملے میں فوجیوں کی ہلاکت پر احتجاج کرتے ہوئے نیٹو افواج کی رسد بند کرتے ہوئے امریکہ سے اسٹریٹیجک ڈائیلاگ منقطع کر دیے تھے۔ نواز حکومت کا کہنا ہے کہ جمعہ کو شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے نے شدت پسندوں سے مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کیا ہے۔

ملک کا موقر انگریزی اخبار ڈان اپنے اداریے میں طالبان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والوں کے حوالے سے لکھتا ہے کہ شدت پسند تنظیم میں کوئی ایسا کمانڈر نہیں جو حکیم اللہ محسود کی جگہ پُر کر سکے۔ اطہر عباس کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے باوجود حکومت کو بات چیت کی کوششوں کو جاری رکھنا چاہیے۔

’’ان کی خاص طور پر تین شرائط ہوتی ہیں: ایک فوج کی چوکیاں ختم اور فوج کی واپسی، کمپنسیشن اور ان کے قیدیوں کی رہائی۔ پھر اگر وہ امن کا حصہ بنتے ہیں، ریاست کے ساتھ رہتے ہیں اور آئین کے تابع رہتے ہیں تو سو بسم اللہ۔ اگر نہیں کرتے تو ریاست کے پاس راستہ ہے جیسے سوات میں ہوا تھا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ عوام کے سامنے اصل نقشہ اور ان کا چہرہ آجائے گا۔‘‘

ڈان لکھتا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور وفاقی وزیر داخلہ کے حالیہ ڈرون حملے پر شدید ردعمل کا بھی تجزیہ کرنا ضروری ہے کہ اگر شدت پسندوں کے حالیہ مہینوں میں ہونے والے حملوں سے امن مذاکرات پٹڑی سے نہیں اترے تو پھر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے کیوں ہوں گے اور آیا سیاست دان کوئی ’’قربانی کا بکرہ‘‘ تو نہیں تلاش کررہے۔
XS
SM
MD
LG