رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں مقدمے کا سامنا کرنے والے ڈاکٹر ظہیر انتقال کرگئے


امریکہ میں مقدمے کا سامنا کرنے والے ڈاکٹر ظہیر انتقال کرگئے

امریکہ میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی معاونت سے کانگریس کے اراکین پر تنازع کشمیر کے لیے حمایت حاصل کرنے کے الزامات کا سامنا کرنے والے ڈاکٹر ظہیر احمد جمعہ کو اسلام آباد کے ایک اسپتال میں مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئے۔

شفا انٹرنیشنل اسپتال کے ترجمان عظمت اللہ قریشی کے مطابق 28 ستمبر کو ڈاکٹر ظہیر کو دماغ کی شریان پھٹنے کے بعد علاج کے لیے اسپتال داخل کیا گیا تھا لیکن ڈاکٹرمسلسل کوششوں کے باوجود ان کی جان نہ بچا سکے۔

ڈاکٹر ظہیر احمد
ڈاکٹر ظہیر احمد

امریکی استغاثہ کا الزام ہے کہ ڈاکٹر ظہیر واشنگٹن میں کشمیر کے حامی گروپوں، کشمیر امریکی کونسل اور کشمیر سینٹر، کو عطیہ دینے کے لیے لوگوں کا انتظام کرتے تھے اور درحقیقت یہ امداد پاکستانی حکومت کی طرف سے مہیا کی جاتی تھی۔ ڈاکٹر ظہیر احمد پر یہ الزامات کشمیر امریکی کونسل کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام نبی فائی کے ساتھ لگائے گئے تھے۔ ڈاکڑ فائی کو واشنگٹن کے مضافات سے حراست میں لینے کے بعد ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔ عدالت میں ڈاکٹر فائی کی اگلی پیشی نومبر میں ہوگی۔

ڈاکٹر ظہیر کو پاکستان میں کبھی گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان الزامات پر کبھی کوئی ردعمل سامنے آیا۔ ان کے پاس امریکہ اور پاکستان دونوں ملکوں کی شہریت تھی۔

63 سالہ ڈاکٹر ظہیر احمد وفاقی دارالحکومت کے ایک بڑے نجی ہسپتال شفا انٹرنیشنل کے بانی اور سربراہ تھے۔

XS
SM
MD
LG