رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخواہ میں زراعت کے شعبے کے لیے امریکی اعانت


یہ آزمائشی منصوبہ زراعت کے شعبے میں متحرک مشاورتی اور مالیاتی خدمات کی فراہمی کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرے گا جس کا آغاز سوات میں آڑو، آلو اور ماہی گیری کے شعبوں سے ہو گا۔

امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یوایس ایڈ) نے پاکستان میں صوبہ خیبر پختنونخواہ اور وادی سوات میں آڑو اور آلو کے کاشتکاروں اور مچھیروں کو متحرک مشاورتی اور مالیاتی خدمات کی فراہمی کے لیے ایک نئے آزمائشی منصوبے کا آغاز کیا ہے۔

اس منصوبے کے نتیجے میں سوات کے1700 سے زائد درمیانے درجے کے فارم اور پندرہ ہزار افراد کو متحرک بینکنگ تک رسائی حاصل ہو گی۔

یو ایس ایڈ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ معلومات اور مالی وسائل کی تیزی سے دستیابی سے کاشتکاراپنی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ، منڈیوں تک زیادہ رسائی اور روپے پیسے کا باکفایت اور محفوظ لین دین کر سکتے ہیں۔

امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یوایس ایڈ) کے مشن ڈائریکٹر گریگوری گوٹلیب نے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں کہا کہ یہ آزمائشی منصوبہ زراعت کے شعبے میں متحرک مشاورتی اور مالیاتی خدمات کی فراہمی کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرے گا جس کا آغاز سوات میں آڑو، آلواور ماہی گیری کے شعبوں سے ہو گا۔

آڑو کاشت کرنے والے ایک کاشتکار شاہی روم کہتے ہیں کہ بارش یا ژالہ باری کے بارے میں پیشگی اطلاع اُنھیں مل سکے تو وہ اُسی مناسبت سے وقت پر ادویات کا اسپرے اور آبپاشی کر سکتے ہیں۔

یوایس ایڈ کا منصوبہ پاکستان کے لیے امریکی اعانت کا حصہ ہے۔ اس سے قبل گومل زام اور ستپارہ ڈیموں کے قریب کاشت کاری کو فروغ دینے کے لیے لاکھوں ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کے لیے آبپاشی کا نظام بھی متعارف کروایا جا رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG